Al-Risala · September 1998 · page 49

Accept the status quo

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۹

۹۔ دور درشن دہلی میں ۲۴ جون ۱۹۹۸ کو بیک پینل ڈسکشن تھا۔ اس کا موضوع تھا " سائنٹفک ٹمپر " (سائنسی مزاج) صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اس موقع پر بتایا کہ سائنٹفک ٹمپر کا مطلب حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ اور یہ خود اسلام کی تعلیم بھی ہے۔ پیغمبر اسلام کی ایک دعا ہے: (اللہم ارنا الاشیاء کماھی (اے خدا! ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب as it is thinking ہے۔ یہی سائنٹفک ٹمپر کا اصل مطلب بھی ہے۔ یہ حقیقت پسندانہ سوچ کسی بھی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

۱۰۔ ۲۷ جون ۱۹۹۸ کو نئی دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر سینٹر(انکسی) میں ایک اجتماع ہوا اس کے صدر سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال تھے۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ موضوع پر تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایک نمائندہ ایک سال پہلے دہلی آئے تھے۔ انہوں نے ایک ملاقات میں مجھ سے پوچھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا فارمولا صرف ایک ہے اور وہ ہے:

Accept the status quo

اس سلسلہ میں انھوں نے بتایا کہ اسٹیٹس کو ازم اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ اس کا مطلب بے عملی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قائم شدہ عملی صورت حال کو مان کر بقیہ دائروں میں جد و جہد کرنا۔ دوسرے لفظوں میں ، مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا۔ اس مسئلہ کا واحد قابل عمل حل یہی ہے۔

۱۱۔ ۱۰ جون ۱۹۹۸ کو جسولا وہار (دہلی) کی مسجد میں ایک پروگرام تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد یہاں صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ہوئی۔ اس کا موضوع تعلیم کی اہمیت تھا، بتایا گیا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی بے حد اہمیت ہے۔ اسی لئے ہر زمانہ میں یہ رواج رہا ہے اور آج بھی ہے کہ ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ اور ہر مدرسہ کے ساتھ ایک مسجد ہوتی ہے۔ علم اور عبادت دونوں ایک وقت اسلام کی بنیاد ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page