ایک گفتگو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱
تعداد دو در جن سے زیادہ نہیں۔ اس لئے ان مذکورہ شخصیتوں کے بارے میں تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے۔ جہاں تک دوسرے پیغمبروں کی بات ہے، ان کے بارے میں جاننے کا مزید ماخذ صرف دو ہو سکتے ہیں، تاریخ اور دوسرے مذہبوں کی مقدس کتا بیں ۔
جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے، وہ پیغمبر اسلام کے سوا کسی بھی دوسرے پیغمبر کا ذکر نہیں کرتی، حتیٰ کہ پیغمبر اسلام سے پہلے قریبی زمانہ میں آنے والے پیغمبر حضرت مسیح کا بھی نہیں۔ خالص تاریخی اعتبار سے، پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر بقیہ تمام پیغمبر غیر معلوم اور غیر مذکور شخصیتیں ہیں۔ ایسی حالت میں تاریخ کے حوالہ سے کسی پیغمبر کو پیغمبر ماننے کا سوال ہی نہیں۔
اس کے بعد دوسرا ماخذ مذہب کی مقدس کتابیں ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک ماخذ بائبل کا ہے۔ بائبل میں کچھ ایسے نبیوں کے نام آئے ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، مثلاً نحمیاہ اور یرمیاہ وغیرہ۔ چنانچہ علمائے اسلام نے بائبل کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے ان شخصیتوں کو بھی خدا کے پیغمبر کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
اس کے بعد ہندو ازم کو لیجئے ۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے مطابق رام اور کرشن کو مقدس شخصیت مانا جاتا ہے۔ اس بنا پر کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رام اور کرشن کو ہمیں پیغمبر ماننا چاہیے مگر خالص علمی اعتبار سے اس قسم کا نظریہ درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ہندو مذہب میں رام اور کرشن کو پیغمبر نہیں مانا جاتا بلکہ ان کو اوتار مانا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اور اوتار کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، پیغمبر عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues