Al-Risala · October 1998 · page 31

All the news thats fit to print.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱

لٹری پوائنٹ آف ویو سے وہ ایک معمولی کتاب ہے۔ اس کتاب میں مشکل سے ایسی کوئی سطر ہے جو کہ نومبر الیکشن کے بعد یاد رکھی جا سکے :

There is hardly a line in it that will be remembered beyond the November election. ۱۹۹۱ کی خلیجی جنگ میں سابق صدر امریکہ جارج بش نے عراق کے صدر صدام حسین کو یا ان کی فوج کو آخری حد تک تباہ کرنے سے پہلے چھوڑ دیا تھا۔ اب صدام حسین نے دوبارہ کردستان (جنوبی عراق) میں اپنی فوجیں داخل کردیں ۔ اس کے فوراً بعد صدر کلنٹن کے حکم سے امریکی فوجوں نے عراق پر میزائل کے ذریعہ حملے کیے۔ یہ حملے ستمبر ۱۹۹۶ کے آغاز میں کیے گئے، جب کہ میں امریکہ میں موجود تھا۔

تاہم اس بار یہ معاملہ بے حد نازک ہے۔ چنانچہ صدر کلنٹن کو ابھی وہ عالمی تائید نہیں ملی ہے جو جارج بش کو اپنے فوجی اقدام پر مل گئی تھی ۔ اس کی کم از کم ایک وجہ وہ ہے جو ایک امریکی پروفیسر نے بتائی ۔ اس نے کہا کہ صدام کو روکنا بہت ضروری ہے۔ مگر اس بار ہماری پوزیشن بہت زیادہ مضبوط نہیں ، کیوں کہ اس بار صدام خود اپنے ملک میں ہے :

But we’re not on very firm ground this time because he is in his own country. نیویارک میں جناب محمد ابراہیم شیخ (7266-252-718 .Tel) سے ملاقات ہوئی۔ انھیں الرسالہ مشن سے مکمل اتفاق ہے۔ وہ الرسالہ اور کتابوں کو ۲۰ - ۲۰ بار پڑھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں الرسالہ اتنا پھیلے گا کہ وہی مسلمانوں کا عمومی فکر بن جائے گا۔ ان کی اہلیہ ایک امریکی نومسلمہ ہیں۔ ان کا نام زرینہ شیخ ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسلام کی طرف آپ کو کیسے رغبت ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انھیں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی زندگی میں کوئی چیز مفقود ہے۔ اس مفقود چیز کو انھوں نے اسلام میں پالیا : Before embracing Islam, there was something missing that she found in Islam.

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page