All the news thats fit to print.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳
عبادت میں داخلی کیفیت بڑھ جائے تو وہ تندرست آدمی کی عبادت سے زیادہ افضل ہو جائے گی۔ ایدھی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کا مرکز پاکستان میں ہے۔ مگر اس نے مختلف ملکوں میں نیزامریکہ میں بھی شاخیں کھولی ہیں۔ نیویارک برانچ کی طرف سے اس کا آرگن ویلفیر جرنل کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ یہ بیک وقت اردو، انگریزی دونوں زبانوں میں ہوتا ہے۔ اس میں مسلسل الرسالہ کے اردو اور انگریزی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اسپین کا سفر نامہ پورا کا پورا اس جرنل نے قسط وار شائع کیا ہے۔ نیویارک کے قیام کے زمانہ میں میں نے 1996 کے کچھ شمارے دیکھے جن میں الرسالہ کے اردو اور انگریزی مضامین نقل کیے گئے تھے۔ یہ جرنل اخباری سائز پر ہے اور نیویارک سے چھپتا ہے (718-6395120 .Tel)
4 ستمبر کی شام کو نیویارک کے میاں اصغر علی صاحب اور ان کے ساتھی ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ دوسری قوموں میں بہت جلد اتفاق ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے میں سے کسی کی قیادت کو مان کر متحد ہو جاتے ہیں۔ مگر مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد قائم نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں۔ اس بنا پر کچھ لوگ شبہ کرنے لگے ہیں کہ شاید مذہب اسلام میں کوئی خرابی تو نہیں۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جب مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہوا تو ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگوں نے مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ تم دنیا کے امام ہو، اٹھو اور عام یاگی امامت و قیادت سنبھال لو۔ اس طرح تمام مسلمانوں میں برتری کا جذبہ ابھار دیا گیا یہ ایک بے معنی بات تھی کیونکہ زندگی میں اصل ضرورت تواضع کی ہے نہ کہ برتری کی۔ امام تو ایک ہوتا ہے۔ باقی تمام لوگوں کو مقتدی بننا پڑتا ہے ۔ 10 ہزار میں 9999 آدمیوں کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، تب ایک شخص آگے بڑھ کر امامت کرتا ہے۔ اس لیے صحیح بات یہ تھی کہ لوگوں میں اطاعت کا جذبہ ابھارا جاتا۔ تواضع اتحاد کی جڑ ہے اور برتری اختلاف کی جڑ۔
انھوں نے کہا کہ انسان تو خدا کا خلیفہ ہے۔ یعنی وہ خدا کا ڈپٹی اور نائب ہے۔ پھر اس طریق تعبیر میں کیا غلطی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بذات خود بے اصل ہے کہ انسان خدا کا نائب اور ڈپٹی ہے۔ انسان خدا کا عبد ہے۔ اسی لیے کلمہ شہادت میں یہ نہیں ہوتا کہ ا شہد ان محمداً خليفته ورسوله
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues