All the news thats fit to print.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴
بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اشھدُ ان محمداً عبدہ و رسولہٗ۔
پھر میں نے کہا کہ اس قسم کی تعبیرات کے عملی نتائج کو دیکھ کر جدید طبقہ اسلام کے بارے میں تشکیک میں پڑگیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں پر تنقید کرکے ان کی غلطی کو واضح کیا جائے جنھوں نے اس قسم کی تعبیرات پیش کیں۔ اگر آپ تنقید نہ کریں تو لوگ خود اسلام کے بارہ میں مشتبہ ہو جائیں گے ۔ تنقید کرنا گویا اس الزام کو اسلام سے ہٹا کر کچھ افراد پر ڈالنا ہے، اور تنقید نہ کرنا گویا افراد کو بچا کر اسلام پر الزام کو باقی رہنے دینا ۔
نیویارک سے نکل کر ہم لوگ الغزالی اسکول پہنچے۔ یہ ایک ہائی اسکول ہے جس کو عربوں نے قائم کیا ہے۔ یہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ عرب اساتذہ بیشتر میری کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ اسکول میں ہال کی صورت میں ایک مسجد بھی ہے۔ اس کے دروازہ پر ایک طالب علم کے ہاتھ کا لکھا ہوا حسب ذیل کتبہ ہے: اذا دخلت المسجد فلا تجلس حتى تصلى ركعتين (ديم عبداللہ العبد القادر )
امریکہ میں (دوسرے مغربی ملکوں کی طرح) چائلڈ ابیوز (child abuse) کا سرکاری ادارہ ہے جو سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کرتا ہے ۔ وہ سرپرستوں کے مقابلہ میں بچوں کا دفاع کرتا ہے۔ کلیم الدین صاحب نے ایک دل چسپ بات بتائی۔ ان کی بچی ذکریٰ یہاں پبلک اسکول میں پڑھتی ہے۔ ایک سال پہلے کا واقعہ ہے، وہ اسکول گئی تو اس کی خاتون ٹیچر نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں رنگ کی مانند کچھ لگا ہوا ہے۔ اس نے فوراً بچی کے والدین کو ٹیلی فون کیا ۔ ان کو شبہ تھا کہ بچی کے والدین نے اس کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے جس کا نشان اس کے ہاتھ پر ہے ۔ والدین نے تحریری طور پر بتایا کہ بچی کے ہاتھ پر جو نشان ہے وہ دراصل مہندی کا نشان ہے جو ہمارے کلچر میں "میک اپ" کے مقصد کے تحت استعمال کی جاتی ہے تب جاکر انھیں چھٹی ملی۔ الغزالی اسکول سے پھر ایک اور صاحب کے ساتھ روانگی ہوئی۔ یہ ایک سفید فام نومسلم مسٹر عبد الرحمن تھے۔ ان کا سابق نام مسٹر بینڈر (Timothy B. Bender) تھا۔ ان کی عمر ۴۷ سال ہے اور انھوں نے اسی سال ۱۹۹۶ میں اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کس چیز نے آپ کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا۔ انھوں نے کہا کہ جنت کا شوق۔ میں نے پوچھا کہ اسلام قبول کرنے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues