Al-Risala · October 1998 · page 35

All the news thats fit to print.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵

کی بعد آپ خوش ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ بہت خوش (very happy)

عبدالرحمن صاحب کے ساتھ روانہ ہو کر میں ڈاکٹر سلیم اے خان کے اسٹور میں پہنچا جو ٹرنٹن میں واقع ہے۔ یہاں دوسری طبی چیزوں کے علاوہ آکسیجن مشین (Oxygen concentrator) سپلائی کی جاتی ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے ہے جو اپنی سانس کے ذریعہ بقدر ضرورت آکسیجن نہیں لے سکتے ۔ یہ مشین ہوا سے آکسیجن لے کر انھیں باہر سے آکسیجن پہنچانے کا کام کرتی ہے۔ راستہ میں ایک جگہ گایوں کافارم نظرآیا ۔ مگر وہ بھی پارک کی طرح تھا۔ تمام جانور خوب صورت دیواروں کے اندر تھے کوئی جانور سڑکوں یا راستوں پر گھومتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ میں نے سوچا کہ گائے کے تقدس کے نام پر جھگڑے انڈیا میں ہوتے ہیں۔ اور صحیح معنوں میں گائے کا حق امریکہ میں ادا کیا جاتا ہے جو گائے کے تقدس کا قائل نہیں۔

مولانا ذکی صاحب نے بتایا کہ یہاں والنٹیرزم بہت زیادہ ہے۔ بہت سے کام مثلاً راستوں کی صفائی اور قانون کا احترام) لوگ بالکل رضا کارانہ طور پر انجام دیتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ امریکہ میں دو سو برس سے جمہوریت کا نظام قائم ہے۔ ہر چار سال پر بالکل پر امن طور پر حکومت بدل جاتی ہے۔ جیتنے والا حکومت چلاتا ہے ، ہارنے والا اپنی ہار مان لیتا ہے۔ یہ سب اس طرح ہے کہ یہاں کا سماج تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں اس کے لیے تیار کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح کسی ملک میں اسلامی نظام بھی اس وقت قائم ہوگا جب کہ وہاں کے سماج کو اس کے موافق بنایا جا چکا ہو۔ سماجی تعمیر کے بغیر حکومت کی تشکیل کا خیال ایک دیوانہ پن ہے نہ کہ کوئی واقعی منصوبہ بندی۔

چلتے ہوئے ایک جگہ سڑک مڑی تو وہاں موٹے حرفوں میں ڈیڈ اینڈ (dead end) لکھا ہوا تھا۔ مولانا ذکی صاحب نے کہا کہ اسی طرح مغربی تہذیب بھی اپنے ڈیڈ اینڈ پر پہنچ چکی ہے۔ مثلاً سابق صدر جارج بش نے چھ بلین ڈالر ڈرگ کے استعمال کو روکنے پر خرچ کیے ۔ مگر ایک فی صد بھی کمی نہ ہوسکی۔ ہتھیاروں کی انڈسٹری پر انھوں نے اپنی اقتصادیات کو قائم کیا۔ مگر اب اس کے مواقع دن بہ دن ختم ہوتے جارہے ہیں۔ فیملی لائف یہاں کی تباہ ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے۔ مگر اسلام کو ان کے سامنے متبادل کے طور پر لانے کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page