All the news thats fit to print.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶
لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی قومی لڑائی کو، اپنی نفرت کی پالیسی کو ختم کرنا ہوگا۔ راستہ میں ایک بڑی خوب صورت دکان دوبارہ ایک پارک نما میدان میں کھڑی ہوئی نظر آئی۔ یہ گاؤں کی گرو سری (کھانے پینے کے سامان کی دکان) تھی۔ ہمارے یہاں شہروں میں بھی اس قسم کی صاف ستھری دکان نہیں۔
انھوں نے ایک صاحب کا قول بتایا کہ ”مولانا مودودی اتنے بڑے ہیں کہ کوئی ان سے چھوٹا بھی نہیں“ میں نے کہا کہ یہ تو لفظی تنگ بندی ہے۔ دوسرا شخص کہہ سکتا ہے کہ ”مولانا مودودی اتنے چھوٹے تھے کہ ہر شخص ان سے بڑا ہے“ میں نے کہا کہ ہمارے یہاں تنقید اور تعریف دونوں میں اس طرح کے الفاظ بولنے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس طرح کے الفاظ سے نہ کسی کا بڑا ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ کسی کا چھوٹا ہونا۔
پروگرام کے مطابق تھوڑی دیر کے لیے مذکورہ اسٹور پر بیٹھا۔ وہاں لوگوں سے مختصر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد جناب محمد ذکی الدین الاشرفی آ گئے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ان کے گھر پہنچا۔ یہاں غسل کیا۔ دوپہر کا کھانا کھایا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ ذکی الدین صاحب سے نہایت مفید باتیں ہوئیں۔ پھر انھوں نے مجھ کو اسلامک سنٹر (ٹرنٹن) پہنچایا جس کے وہ ڈائرکٹر ہیں۔ ذکی الدین صاحب نہایت ذہین آدمی ہیں۔ عربی تعلیم کے بعد امریکہ آ کر انھوں نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی ہے۔ انھوں نے اپنے کئی قصے سنائے ۔
دوپہر کا کھانا مولانا ذکی الدین الاشرفی کے مکان پر کھایا۔ اس کے بعد ان کے صاحب زادہ محمد نقی الدین ذکی (پیدائش ۱۹۰۵ء) کے ہمراہ قیام گاہ (ماؤنٹ ہالی) کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ان سے گفتگو ہوتی رہی۔
انھوں نے کہا کہ کالج میں میرے تعلقات زیادہ تر ہندو لڑکوں سے ہیں۔ ان سے اکثر مذہب پر گفتگو ہوتی ہے۔ ہندو طلبہ کہتے ہیں کہ اسلام میں ٹالرنس نہیں ہے۔ ہند و ازم کا کہنا ہے کہ سچائی صرف ہندو دھرم میں نہیں ہے۔ بلکہ سچائی ہر جگہ ہو سکتی ہے۔ مگر آپ لوگ کہتے ہیں کہ صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے۔ اسی وجہ سے ساری لڑائی ہے۔ اگر آپ لوگ ہمارے نقطۂ نظر کو مان لیں تو فرقہ وارانہ جھگڑے ختم ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues