Let us agree to disagree
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
میں نے کہا کہ ان لوگوں کا ایسا کہنا درست نہیں ۔ سماجی امن کے لیے اصل چیز ٹالرنس کی اسپرٹ ہے نہ کہ یہ عقیدہ کہ ہر مذہب یا ہر نظریہ سچا ہے۔ مثلاً یہاں امریکہ میں آپ دیکھئے، اکیڈمک حلقہ میں کوئی متشددانہ لڑائی نہیں ۔ اس کی وجہ نہیں ہے کہ ہر اسکالر دوسرے اسکالر کے نقطہ نظر کو درست مانتا ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ اختلاف کے وقت وہ کہہ دیتے ہیں :
Let us agree to disagree
میں نے کہا کہ ٹالرنس کی اہمیت اسلام میں بھی اتنی ہی ہے جتنا کہ ہندو ازم میں۔ فرق یہ ہے کہ ہندو ازم میں ٹالرنس کی بنیاد باہمی اعتراف (mutual recognition) پر ہے اور اسلام میں ٹالرنس کی بنیاد باہمی احترام (mutual respect) پر ۔ اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر عین وہی ہے جو سائنٹفک کمیونٹی میں عملاً رائج ہے ۔
اسلامک سنٹر میں عربی اخبار المسلمون (۵ مئی ۱۹۹۵) دیکھا ۔ اس میں ایک رپورٹ فلسطین کے بارہ میں چھپی ہوئی تھی ۔ اس کا عنوان یہ تھا کہ قدس اسلامی امت کو پکار رہا ہے : القدس تصرخ الامۃ الاسلامیة ۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح کا عنوان ظاہر کرتا ہے کہ فلسطین کے معاملہ میں امت نے کچھ نہیں کیا ، اور اب فلسطین مسلمانوں کو مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ مگر یہ سراسر خلاف واقعہ بات ہے ۔ ۱۹۴۸ میں جب فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا تو شیخ حسن البنا نے قاہرہ میں پرجوش تقریر کر کے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں ایک لاکھ سے زیادہ مصری شریک تھے ۔ جلوس کا نعرہ یہ تھا کہ اے فلسطین، ہم حاضر ہیں : لبيك يا فلسطين ۔
اس کے بعد فلسطینیوں ، عربوں اور ساری مسلم دنیا نے اس محاذ پر ہر قسم کی بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے فلسطین کے محاذ پر مزید کھو دیا۔ ان کی قربانیاں انھیں کچھ بھی دلانے میں کامیاب نہیں ہوئیں ۔ گویا آج مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان فلسطین کی مدد کے لیے نہیں دوڑے ۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مدد کے لیے دوڑ پڑنے کے باوجود انھیں ناکامی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues