Al-Risala · October 1998 · page 38

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸

کے سوا اور کوئی چیز حاصل نہیں۔ گویا آج اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امت کو فلسطین کی مدد کے لیے پکارا جائے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ غور کیا جائے کہ مسلمانوں کی کامل مدد کے باوجود ان کی مدد مفید کیوں نہیں ہوئی ۔

۷ ستمبر کو ماؤنٹ ہالی کے اسلامک سنٹر میں ڈاکٹر نجم اختر (۳۲ سال) سے ملاقات ہوئی۔ (301-3360241 .Tel) انھوں نے الیکٹرانک کمیونی کیشن میں ڈاکٹریٹ تک تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ امریکہ کی ایک بڑی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن (Locheed Martin) میں ہیں۔ یہ کمپنی فوجی اہمیت کے سامان تیار کرتی ہے۔ انھیں یہودیوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے ۔ اب وہ یہاں سے چھوڑ کر سعودی عرب جارہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ۔ یہودیوں کی ترقی کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت پارٹی ورکر ہوتے ہیں اور بہت لگن والے (extremely dedicated) ہوتے ہیں یہی ان کی ترقی کا اصل راز ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہودیوں میں قومی سوچ بہت زیادہ ہے۔ کوئی یہودی خواہ وہ کہیں بھی ہو، وہ ہمیشہ اسرائیل کے بارہ میں سوچ رہا ہوتا ہے ۔ حتی کہ وہ مذہب کو بھی اس معاملہ میں رکاوٹ نہیں بناتا ۔ اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اگر میرے کام کا ہے تو میں مسلمان کو لوں گا ، یہودی کو نہیں لوں گا۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے کام کے لیے بہترین آدمی کون ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میرا انٹرویو ہوا تو کل پانچ امیدوار تھے۔ ان میں ہندو، عیسائی ، یہودی سب تھے ۔ میں اکیلا مسلمان تھا۔ مگر انھوں نے میرا انتخاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کوئی آپ کو نماز پڑھنے سے نہیں روکتا ۔ مگر لوگ خود نماز چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ مجھے دوسروں کے جیسا ہونا چاہیے ۔ وہ اس میں اپنا فائدہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں سے الگ نہ دکھائی دیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ یہودی کمپنی میں تعصب کیا گیا تو وہ غلط کہتا ہے۔ وہ اپنی کمزوری کا الزام دوسرے کے اوپر ڈال رہا ہے۔

نیویارک میں میرا قیام خواجہ کلیم الدین ایم ایس سی کے مکان بروکلین) میں تھا ۔ ۵ ستمبر ۱۹۹۶ کی صبح کو یہاں سے روانگی ہوئی ۔ راستہ میں ہم لوگ چند پل سے گزرے۔ معلوم ہوا کہ نیویارک میں ۶۷ واٹر کراسنگ ہیں۔ نیویارک مختلف جزیروں پر واقع ہے ۔ ایک جزیرہ سے دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page