Al-Risala · October 1998 · page 39

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹

جزیرہ میں آنے جانے کے لیے بہت سے راستے بنائے گئے ہیں۔ کچھ پانی کے اوپر سے پل کی صورت میں اور کچھ پانی کے نیچے سے سرنگ کی صورت میں۔ دونوں قسم کے راستوں کے لیے ایک مشترک لفظ واٹر کراسنگ ہے۔

خواجہ کلیم الدین صاحب نے بتایا کہ نیو یارک میں انھوں نے ایک عرب سے ملاقات کی۔ ان کو الرسالة مشن کی کچھ کتابیں دیں اور کہا کہ اس ملک میں ہمیں دعوت کا کام کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے پڑوسیوں کا حق ادا کریں گے بلکہ دعوت کے ذریعہ ہمیں دوسری قوموں کے افراد حاصل ہوں گے جو ہمارے لیے بے حد کارآمد ثابت ہوں گے۔ مذکورہ عرب نے جواب دیا کہ یہ تو ایک رسکی کام ہے۔ کیا معلوم کہ اسی بہانے دشمن قوم کے افراد ہمارے اندر داخل ہو جائیں تاکہ وہ ہمارے راز دریافت کریں اور اندر سے ہمیں نقصان پہنچائیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام تصور یہ ہے کہ تمام قومیں ہماری دشمن ہو گئی ہیں اور وہ ہمارے خلاف سازش کرتی رہتی ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ خود یہ تصور شیطان کی سب سے بڑی سازش ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہم کو مدعو قوموں سے متنفر کر دے تاکہ ہم ان کے اوپر اسلام کی دعوت کا کام کرنے کا خیال ہی چھوڑ دیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب نے کہا کہ یہ (Them versus us) کا تصور ہے جو قومی ہے نہ کہ اسلامی۔

نیو یارک میں خواجہ کلیم الدین صاحب کے یہاں ایک روز میں کھانے کی میز پر تھا۔ ان کے چھوٹے صاحب زادے لقمان میاں ایک پلیٹ لائے اور اس کو میرے سامنے رکھ دیا۔ مرغ کے گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس میں سے لیجیے۔ میں نے پلیٹ کو اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے کہا: mere sight is horrible - وہ میرے ہندوستانی لہجہ کو پوری طرح سمجھ نہ سکے۔ مزید وضاحت کے بعد انھوں نے اس بات کو اپنی زبان میں اس طرح کہا : Even looking at it makes me feel sick. سوال کے جواب میں میں نے بتایا کہ بوقت ضرورت میں گوشت بھی کھا سکتا ہوں مگر میں پیدائشی اعتبار سے ویجیٹیرین ہوں۔ میری والدہ اگر چہ گوشت کھاتی ہیں، مگر میرے والد مکمل طور پر ویجیٹیرین تھے جن کا انتقال ۱۹۲۹ میں ہو گیا۔ میری چچازاد بہن مریم مرحومہ کا یہ حال تھا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page