Al-Risala · October 1998 · page 40

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰

کہ جس چمچہ سے گوشت نکالا گیا ہو اس چمچہ سے اگر دال یا سبزی نکالی جائے تب بھی وہ اس کو نہیں کھا سکتی تھیں ۔ اس طرح میرے خاندان میں کئی عورت اور مرد ویجیٹیرین رہے ہیں۔ تاہم میں بائی برتھ ویجیٹیریان ہوں نہ کہ بائی چوائس۔

۵ ستمبر ۱۹۹۶ء ــــ اس وقت میں ماؤنٹ ہالی (Mount Holly) کے اسلامک سنٹر میں ہوں ۔ یہ ایک خوب صورت دنیا ہے جو فطرت کی خوب صورت تر دنیا میں واقع ہے۔ چاروں طرف فطرت کا سر سبز حسن پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک پر سکون ماحول ہے جس میں کسی چڑیا کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی قریب کی سڑک سے گزرنے والی کسی کار کی آواز۔ پچھلے ۲۵ سال میں مسلمانوں نے امریکہ میں اس طرح کے تقریبا ایک ہزار اسلامک سنٹر بنائے ہیں ۔ یہ سنٹر آبادیوں کے عین درمیان بھی ہیں اور موجودہ سنٹر کی طرح آبادی کے ہر پرسکون مقام پر بھی۔ میں نے ایک تقریر میں کہا کہ دورِ اول میں صحابہ کرام اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ اور مدینہ میں صحابہ کی قبریں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حضرت خالد کی قبر شام میں ہے اور حضرت معاذ بن جبل کی قبر اردن میں ۔ اسی طرح صحابہ کرام کی زیادہ تعداد ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں جاکر آباد ہوگئی یہ دراصل جذبہ دعوت تھا جس نے انھیں عرب کے باہر مختلف ملکوں میں پہنچا دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس بھی یہی ہے۔ یہ مسلمان ابتدائی طور پر جب یہاں آئے تو وہ معاش کے جذبہ کے تحت آئے۔ مگر حالات نے انھیں مجبور کیا کہ وہ یہاں اپنی اسلامیت کو زندہ کریں۔ کیوں کہ انھیں محسوس ہوا کہ اگر ہم نے اپنی اسلامی شناخت کھو دی تو ہم یہاں بالکل بے جگہ ہو کر رہ جائیں گے ۔ اب انھوں نے مسجدیں اور ادارے اور سنٹر بنانے شروع کر دیے ۔ اس طرح اب یہی ہوتا جارہا ہے کہ عملاً وہ یہاں اسلام کے نمائندہ اور داعی بن کر رہیں ۔ مولانا محمد ذکی الدین شرفی نوجوانی کی عمر سے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی تحریریں پڑھتے رہے ہیں ۔ وہ ان کے گہرے معتقد ہیں ۔ ایک روز انھوں نے ایک بات کہی۔ پھر میری فرمائش پر حسب ذیل الفاظ کا غذ پر لکھ کر مجھے دیے : مولانا مودودی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے جدید ریاست (modern state) کے تناظر میں قرآن کا تصور توحید

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page