Al-Risala · October 1998 · page 41

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱

انتہائی تسلسل، وضاحت اور یقین محکم کے ساتھ بیان کیا (۶ ستمبر ۱۹۹۶)

اس عبارت میں جس چیز کو "جدید ریاست" کہا گیا ہے، وہ دراصل ریاست کا کمیونسٹ تصور تھا جو عرصہ ہوا ختم ہو گیا۔ مارکس نے ریاست کو ایک ہمہ گیر اور کلی ادارہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اس فکر کا غلغلہ بلند ہوا۔ مولانا مودودی، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، اس سے متاثر ہوئے اور اسلام کے تصور توحید میں سیاسی حاکمیت کا تصور شامل کر کے اسلام کو ایک کلی ریاست کے روپ میں پیش کیا۔ مگر یہ قرآن کا تصور توحید نہیں تھا بلکہ وہ قرآن کی کچھ آیتوں کی غلط اور غیر علمی تفسیر تھی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تعبیر کی غلطی)

ریاست کا جدید تصور، مارکسی تصور سے بالکل مختلف ہے۔ جدید سیکولر جمہوری نظام میں ریاست سمٹ کر "انتظامیہ" کے ہم معنی بن گئی ہے۔ ایڈمنسٹریشن کے باہر تقریباً تمام شعبے آزاد انسانی شعبے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مولانا مودودی اپنے حال میں گرفتار تھے اور ان کے معتقدین ماضی میں گرفتار ہیں۔ اول الذکر کا کیس اگر مرعوبیت کا کیس ہے تو ثانی الذکر کا کیس شخصیت پرستی کا کیس۔

۶ ستمبر کی شام کو میں ماؤنٹ ہالی کے سنٹر میں اوپر کی منزل میں واقع اپنے کمرہ میں لکھنے پڑھنے کے کام میں مشغول تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ دو ہندوصاحبان آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ مجھے تعجب ہوا یہاں میری موجودگی کا علم ان کو کس طرح ہوا۔ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ مسٹر کملیش شاہ (Tel. 908-3294006) اور مسٹر بھر ت جانی (Tel. 908-2831863) ہیں۔ میں ان کو بالکل جانتا نہیں تھا۔ ان کو بمبئی سے مہیش بھائی نے خبر دی تھی کہ اس وقت میں امریکہ میں ہوں۔ انھوں نے مختلف جگہوں پر ٹیلی فون کر کے میرا پتہ معلوم کیا اور پھر یہاں پہنچ گئے۔ یہ لوگ ایک بہت بڑی تحریک سے وابستہ ہیں۔ اس کا سنٹر بمبئی میں ہے۔ امریکہ کی تقریباً ہر ریاست میں ہزاروں ہندو ان کی تحریک سے وابستہ تھے۔ وہ ایک بڑا اجتماع یہاں کرنا چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ میں اس میں اپنے خیالات پیش کروں۔ مگر طے شدہ پروگرام کی بنا پر کسی بڑے اجتماع کے لیے میں وقت نہیں دے سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page