Let us agree to disagree
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲
سوال وجواب سوال کہا جاتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے ۸۰ علوم درکار ہے۔ ان ۸۰ علوم میں مہارت کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ عام مسلمان کس طرح اسلام کو سمجھیں۔ کیا قرآن صرف ماہرین علوم کے لئے اترا ہے، عام انسانوں کے لئے نہیں۔ عام لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ سمجھے بغیر قرآن کے الفاظ کی تلاوت کرتے رہیں، اور قرآن کو سمجھنے کا کام ماہرین علوم کے لئے چھوڑ دیں۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور) جواب ” ۸۰ علوم “ میں مہارت کا نظریہ نہ قرآن وحدیث میں کہیں ملتا ہے اور نہ وہ کسی صحابی سے منقول ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ، اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آسان بنا دیا تاکہ لوگ اسے سمجھیں (القمر ۴۰) ایسی حالت میں قرآن فہمی کا مذکورہ نظریہ خود قرآن کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ یہ قابل عمل بھی نہیں۔ اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ میں کوئی اسلامی شخصیت یا کوئی عالم ایسا نہیں جو ان مفروضہ ۸۰ علوم میں کامل مہارت رکھتا ہو۔ اب اگر مذکورہ اصول کو مان لیا جائے تو یہ بھی کہنا پڑے گا کہ اسلام کی پوری تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں گذرا جو قرآن کو حقیقی طور پر سمجھے اور اس کی توضیح و تفسیر کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لئے اصلا صرف دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ ایک ، عربی زبان کی بخوبی واقفیت ، اور دوسرے وہ چیز جس کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے ، (البقرہ ۲۸۲) یعنی حسن نیت ، سنجیدگی اور سچی طلب ۔ عربی زبان سے بخوبی واقفیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ قرآن کے بیانات کا بنیادی فہم حاصل کر سکے۔ اور تقویٰ اس بات کا ضامن ہے کہ وہ دوسرے ضروری ماخذوں سے بھر پور
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues