Al-Risala · October 1998 · page 43

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳

استفادہ کرے مثلاً حدیث سے۔ اور اسی کے ساتھ وہ اس حد تک سنجیدہ ہو کہ اس غلطی سے بچ جائے جس کو تفسیر بالرائے کہا جاتا ہے۔

سوال

دعوت کے دو طریقے ہیں۔ ایک، "قولی دعوت" اور دوسرے "فعلی دعوت"، فعلی دعوت کے بغیر دعوت کا عمل بے فائدہ ہے۔ مسلمان جب تک اپنے اخلاق وافعال سے اسلام کا مظاہرہ نہ کریں، محض تقریر و تحریر کے ذریعہ کوئی شخص اسلام سے قریب آنے والا نہیں۔ اس لئے دعوتی مقصد کے تحت پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق واعمال اور سیرت و کردار کو درست کیا جائے۔ مسلمانوں کی عملی اصلاح کے بغیر صرف قولی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں (محمد یعقوب، حیدر آباد)

جواب

قولی دعوت اور فعلی دعوت کی تقسیم سراسر بے بنیاد ہے، قرآن وحدیث میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔ فعل بلاشبہ مطلوب ہے، مگر اس کا محرک ذاتی اصلاح ہے نہ کہ دعوت و تبلیغ۔ مثلاً روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ غیر مسلموں کے مجمع میں جاتے اور ان کو خطاب کرتے ہوئے کہتے کہ، اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو تم فلاح پاؤ گے ( ایها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا) مگر قرآن وحدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں آیا ہے کہ اے مسلمانوں، تم عمل صالح کرو تا کہ اس کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ یہ ایک خلاف واقعہ بات مشہور ہے کہ دور اول میں لوگ مسلمانوں کے اخلاق کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو کسی پیغمبر کو کبھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ اصل یہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کے دل دوسروں کی نفرت سے خالی تھے۔ انہوں نے کسی سے مادی جھگڑا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page