Al-Risala · October 1998 · page 44

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

بھی نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معتدل فضا میں ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اس دوران فطری طور پر اسلام زیر بحث آنے لگا۔ معتدل فضا میں یہی تفاعل (interaction) دعوت کے کام میں سب سے زیادہ مددگار ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی عمومی اشاعت رک جانے کا سبب مسلمان کی بے عملی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تمام تر سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی قومی اور مادی تحریکوں نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرتیں پیدا کردیں۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان معتدل فکری تعلق باقی نہ رہا۔ اب دعوت کے مواقع کھولنے کے لئے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کو ختم کیا جائے۔ جیسے ہی نفرت کی فضا ختم ہوگی اسلام کا فطری پیغام لوگوں کے دلوں میں داخل ہونا شروع ہو جائے گا۔

سوال

قرآن کی سورہ المائدہ میں ارشاد ہوا ہے۔ ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئک هم الكفرون ( المائده ٤٤) اس آیت کو جب میں پڑھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں کہ آج ہم قرآن کریم کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ ہماری عدالتوں میں، ہمارے دیگر معاملات میں فیصلے قرآن کریم کے خلاف ہوتے ہیں آپ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعۃً ہی ہم کافر ہو گئے ہیں۔ کیا ہم اس حالت میں جو آج ہندستان میں رائج ہے جنت کے مستحق ہو سکتے ہیں (صدر الدین، پونچھ کشمیر)

جواب

اس آیت کا تعلق اجتماعی نظام سے نہیں ہے بلکہ فرد کے ذاتی عمل سے ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندستان میں یا اس قسم کے دوسرے ملکوں میں قائم شدہ سیاسی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page