Let us agree to disagree
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵
نظام سے لڑ کر اس کو بدلا جائے اور عدالتوں میں اسلامی قانون کے متعلق فیصلے کروائے جائیں۔ اس قسم کے کسی نام نہاد انقلابی نظریہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس آیت کا خطاب تمام تر فرد سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کے ساتھ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اس کے بارے میں شریعت کا مسئلہ معلوم کرے ، خواہ علماء کے ذریعہ یا دار الافتاء کے ذریعہ۔ اور جب شریعت کا مسئلہ معلوم ہو جائے تو پوری آمادگی کے ساتھ اس کو اختیار کرلے۔ مسلمان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ جو چیز شرعی قانون کے تحت اس کا حق نہیں ہے ، اس کو پانے کے لئے وہ ناحق طور پر ملکی عدالت میں پہنچ جائے اور جو چیز اس کو خدائی قانون کے تحت نہیں مل رہی تھی اس کو وہ انسانی قانون کی مدد سے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ وہ تمام افراد اس آیت کا مصداق ہیں جو اپنے نزاعات کو اسلامی اصول کے تحت طے نہیں کرتے بلکہ اس کو لے کر ملکی عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں تا کہ وہاں سے من مانا فیصلہ حاصل کر سکیں۔ اور شرعی قانون کے تحت جو چیز ان کا حق نہیں ہے اس کو وضعی قانون کی مدد سے اپنے لئے حاصل کر لیں۔
سوال
آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ کی بات کرتے ہیں ، آپ دوسروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ نزاع کے موقع پر ایڈجسٹ کر کے رہیں۔ مگر آپ کا اپنا عمل اس کے خلاف ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دوسری اسلامی شخصیتوں سے جب آپ کا کوئی اختلاف ہو تا ہے تو آپ فوراً ان کے خلاف تنقید شروع کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ ایڈجسٹمنٹ کے فلسفہ کے مطابق ، آپ کو ان کی تنقید یا مخالفت نہیں کرنا چاہئے ۔ (ظہیر احمد صدیقی ندوی ، لکھنؤ)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues