Let us agree to disagree
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶
جواب
ایڈ جسٹمنٹ کا تعلق عمل سے ہے نہ کہ قول سے، یعنی دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو اس کی وجہ سے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں۔ انہیں قول کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرنا چاہئے۔ اختلاف کو عملی ٹکراؤ تک نہیں لے جانا چاہئے، عملی ٹکراؤ سے ہمیشہ طرح طرح کے نقصانات پیدا ہوتے ہیں، مگر سنجیدہ قولی اختلاف غیر معمولی فائدوں کا باعث ہے۔ اگر کسی سماج میں قولی اختلاف یا تنقید کو ختم کر دیا جائے تو ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ظالم حکمراں کے خلاف قولی اعلان کو افضل جہاد بتایا گیا ہے۔ مگر اسی ظالم حکمراں کے خلاف عملی خروج یا پر تشدد مخالفانہ کارروائی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
سوال
آپ کی کتاب فکرا سلامی پڑھی یہ پوری کتاب مجھے قابل اعتراض نظر آئی اس لئے کہ آپ اس کتاب کے مطابق یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو زمانہ حاضر کے مطابق ڈھالیں ۔ حالانکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ زمانہ کو اسلام کے مطابق ڈھالا جائے ۔ (مفتی نذر توحید مظاہری و مفتی شعیب قاسمی، چترابہار)
جواب
یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ اس کتاب کا موضوع اجتہاد ہے۔ اجتہاد کا مقصد یہ نہیں ہو تا کہ اسلام کو زمانہ حاضر کے مطابق بنایا جائے۔ بلکہ اجتہاد کا مقصد ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں از سر نو اسلام کو منطبق کرنے کی کوشش کی جائے۔ رسول اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues