Al-Risala · October 1998 · page 47

Let us agree to disagree

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷

ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو مدینہ سے بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز ہر گز نہ پڑھنا۔ لیکن راستہ میں ان صحابہ کو محسوس ہوا کہ غروب آفتاب قریب آچکا ہے اور اگر انہوں نے راستہ میں عصر کی نماز نہ پڑھی تو بنو قریظہ پہنچنے تک اس کا وقت ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے بظاہر حکم رسول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راستہ میں عصر کی نماز پڑھ لی۔ صحابہ کا یہ عمل اسلام کو حالات کے مطابق ڈھالنا نہیں تھا بلکہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو منطبق کرنا تھا۔ اسی کا نام اجتہاد ہے۔ یہ اجتہاد زندگی کی ایک فطری ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ مذکورہ کتاب میں اسلامی شریعت کے اسی پہلو کو زمانہ حاضر کی نسبت سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سوال

افغانستان میں طالبان اس اعلان کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ وہ اقتدار حاصل کر کے اسلامی قانون نافذ کریں گے۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے (محمد خالد ندوی) جواب حضرت عائشہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے دلوں کو بدلا اور اس کے بعد شرعی قانون کا نفاذ فرمایا۔ افغانستان کے طالبان اس کے برعکس بم اور گن کے ذریعہ اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ طالبان اسلامی قانون کے نفاذ میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی انتہا پسندانہ اور متشددانہ کارروائیوں کے ذریعہ افغانستان میں جو چیز لائیں گے وہ صرف تباہی ہوگی۔ وہ نہ کوئی مادی تعمیر کر سکیں گے اور نہ اسلامی تعمیر۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page