Let us agree to disagree
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸
خبر نامہ اسلامی مرکز - ۱۳۶
۱۔ ۲۳ جون ۱۹۹۸ کو زی ٹی وی (نئی دہلی) نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق اجودھیا کی بابری مسجد سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ نزاعات ہر سماج میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر مہذب سماج میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو یا تو پر امن گفت وشنید کے ذریعہ طے کیا جائے یا کورٹ کے ذریعہ۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اس لئے اس کا تعلق عدالتی فیصلہ سے نہیں۔ اگر آپ رام کو بھگوان کہیں تو یہ بلا شبہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اور کوئی عدالت اس معاملہ میں فیصلہ نہیں دے سکتی مگر جب آپ یہ کہتے ہیں کہ رام فلاں خاص جگہ پیدا ہوئے تو یہ ایک تاریخی بیان ہوتا ہے نہ کہ کوئی اعتقادی بیان۔ اسی طرح جب آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں جگہ ایک مندر تھا اور فلاں حاکم نے اس کو توڑ کر مسجد بنایا تو یہ بھی ایک تاریخی بیان ہوتا ہے اور جس بیان کی حیثیت تاریخی ہو اس کو تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر ہی طے کیا جاسکتا ہے۔
۲۔ ۲۶ جون ۱۹۹۸ کو دور درشن (نئی دہلی) پر ایک پینل ڈسکشن تھا ۔ اس کا موضوع تھا مشترک کلچر کے سماج میں اتحاد کیسے حاصل ہو۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انہوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ سماجی اتحاد کاراز یہ نہیں ہے کہ اختلافات کو مٹا کر یکسانیت لائی جائے۔ فرق اور اختلاف فطرت کا حصہ ہیں۔ اس لئے سماجی اتحاد کاراز صرف ایک ہے اور وہ ٹالریشن اور باہمی احترام ہے۔ ۳۔ آریہ سماج مندر (دہلی) میں ۵ جولائی ۱۹۹۸ کو شراب بندی پر ایک جلسہ تھا، جس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ایک تقریر کی۔ وہاں ایک امریکی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues