کتاب فطرت
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۶
کتاب فطرت
انسان کو دنیا میں کس لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اپنے خالق کی معرفت کے لئے۔ معرفت رب ہی اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا حاصل ہے۔ جو آدمی مخلوقات میں خالق کی دریافت کرلے وہی صاحب معرفت ہے اور جو صاحب معرفت ہے وہی خدا کا وہ مطلوب انسان ہے جس کے لئے آخرت کی ابدی دنیا میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
اس مقصد کے لئے خدا نے پوری کائنات کو ایک کھلی ہوئی کتاب بنا دیا۔ یہاں ایک سورج ہے۔ یہ گویا عظیم خدائی تاریخ ہے جو اندھیرے میں چھپی ہوئی خبروں کو اجالے میں لا کر ان کو قابل مشاہدہ بنا دیتا ہے۔ یہاں دریاؤں اور سمندروں کے مناظر ہیں جو خدا کی صفات رحمت کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔ یہاں پہاڑ اور درخت ہیں جن کو دیکھ کر آدمی روحانی غذا حاصل کرتا ہے۔ یہاں ہوا کے جھونکے ہیں جو ہر شخص کو لمس ربانی کا تجربہ کراتے ہیں۔ یہاں چڑیوں کے چہچہے ہیں جو صبح و شام آدمی کو خدائی نغمے سنا رہے ہیں۔ یہ کتاب فطرت ہے۔ اس کتاب میں وہ سب کچھ کامل طور پر درج ہے جو آدمی کو جاننا چاہیے۔ ۔ اس کتاب میں علم و آگہی کا وہ پورا ذخیرہ رکھ دیا گیا ہے جس کو دریافت کر کے آدمی اپنی اعلیٰ روحانی تعمیر کر سکے۔ خدا کے نزدیک محروم وہ نہیں ہے جو مال و دولت سے محروم ہو۔ بلکہ محروم وہ ہے جو اس خزانہ فطرت سے اپنا حصہ نہ لے سکے۔ اندھا وہ نہیں ہے جو آنکھ کا اندھا ہو، اندھا وہ ہے جو بصیرت کی صلاحیت سے خالی ہو۔ جاہل وہ نہیں ہے جو مشرقی اور مغربی درسگاہوں کی ڈگریاں نہ رکھتا ہو۔ بلکہ جاہل وہ ہے جس کو رب المشرقین والمغربین کی درس گاہ سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا مگر وہ محرومی کی حالت میں اس دنیا سے چلا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues