Al-Risala · November 1998 · page 7

زندگی کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۷

زندگی کیا ہے

زندگی کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے مرکزی تصور کیا ہے۔ وہ کون سا بنیادی نکتہ ہے جس کی روشنی میں زندگی کے تمام معاملات کی توجیہ کی جاسکتی ہے۔

خدائی تعلیم کے مطابق، یہ مرکزی نکتہ یا بنیادی تصور، صرف ایک ہے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ ابتلاء (الملک ۲) ہے۔ یعنی آزمائش (test) ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی خدائی ٹسٹ پر ہے۔ خدا کے فرشتے ہر لمحہ اس ٹسٹ کی رپورٹ تیار کر رہے ہیں۔ اسی رپورٹ پر اگلے مرحلہ حیات میں آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور پھر کسی کو جنت میں داخلہ ملے گا اور کسی کو جہنم میں۔

یہ ٹسٹ کیا ہے۔ وہ ٹسٹ یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں جن احوال سے دوچار ہوتا ہے ان میں وہ کیا رسپانس دیتا ہے۔ ایک قسم کا رسپانس آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے اور دوسری قسم کا رسپانس اس کو جہنم والوں کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔ اصولی اعتبار سے اس رسپانس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کو ربانی رسپانس کہا جا سکتا ہے اور دوسرے کو شیطانی رسپانس۔ ربانی رسپانس یہ ہے کہ آدمی جب کسی صورت حال سے دوچار ہو تو وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اس معاملہ میں خدا کی مرضی کیا ہے۔ مثلاً کسی نے آپ کو غصہ دلا دیا تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ غصہ کا جواب غصہ سے دینا اللہ کو پسند ہے یا غصہ کا جواب معافی سے دینا۔ اسی طرح اتفاقی اسباب سے کسی کا مال آپ کے قبضہ میں آگیا تو آپ کو سنجیدگی کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئے کہ ایسا مال مجھے اپنے پاس رکھنا چاہئے یا اس کو اصل مالک کی طرف لوٹا دینا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page