Al-Risala · November 1998 · page 8

زندگی کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۸

اسی طرح ایک صورت حال سامنے آتی ہے جب کہ جھوٹ بول کر مقبولیت ملتی ہے اور سچ بولنے سے آدمی کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی محبوبیت کھودے گا۔ ایسے موقع پر چاہئے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ معلوم کرے کہ دونوں میں سے کون سا سپانس خدا کو اس سے مطلوب ہے اور پھر اس کو اختیار کر لے۔

آدمی ہر لمحہ مختلف احوال سے دوچار ہوتا ہے۔ صبح و شام اس کے ساتھ مختلف قسم کے معاملات پیش آتے رہتے ہیں۔ یہ احوال و معاملات سب کے سب امتحان کے پرچے ہیں۔ آدمی کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ ان پرچوں کو کس طرح حل کرتا ہے۔

ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی ذاتی خواہش پر چلے۔ وہ صرف اپنے ذاتی فائدے کو دیکھے۔ وہ ہر معاملہ میں اپنی ذاتی رائے کو اختیار کرے۔ ایسا آدمی اپنے امتحانی پرچے کو حل کرنے میں ناکام ہو گیا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ خدا اور رسول کی طرف رجوع کرے۔ وہ قرآن و حدیث میں اس کا مسئلہ تلاش کرے۔ اور پھر خدا کی کتاب اور رسول کی سنت سے جو حکم ملے اس کو دل کی پوری آمادگی کے ساتھ قبول کر لے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔

موجودہ دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا نہ انعام کے لئے ہے اور نہ سزا کے لئے۔ بلکہ دونوں ہی آزمائش کے لئے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر معاملہ کو اسی نظر سے دیکھے۔ جب اس کو کوئی چیز ملے تو وہ خدائی قانون کے مطابق اس کا حق ادا کرے۔ اور جب کوئی چیز اس سے چھینی جائے تب بھی وہ وہی کرے جو خدائی قانون میں ایسے موقع پر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page