Al-Risala · November 1998 · page 9

برائی کے بعد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۹

برائی کے بعد

واقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السيأت ذلك ذكرى للذاكرين (هو د ١١٤) اور نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصہ میں۔ بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لئے۔

آدمی اپنی فطری کمزوریوں کی بنا پر طرح طرح کی کوتاہیاں کرتا ہے۔ بعض اوقات اس سے کوئی بڑا گناہ بھی سر زد ہو جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو آدمی کا ضمیر فوراً اس کو ملامت کرتا ہے۔ اس طرح ضمیر گویا اس بات کا پیشگی اعلان ہے کہ تم یہ غلطی کر کے اللہ کی نظر میں مجرم بن گئے ہو۔ موجودہ حالت میں تم اللہ کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ اب انسان کیا کرے مذکورہ آیت اسی سوال کا جواب ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ برائی کے بعد نیکی کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ نیکی گویا اس کی طرف سے برائیوں کی تلافی ہے۔ یہ خدا کی نظر میں اپنے آپ کو دوبارہ مقبول بنانے کی کوشش ہے۔ جب آدمی کوئی برائی کرتا ہے تو ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ نیکی کے بارے میں اس کا جذبہ کمزور پڑ گیا تھا۔ وہ برائی کرنے اور نیکی کے بارے میں اپنی حساسیت کھو بیٹھا تھا۔ اس کے اندر سے وہ مزاج رخصت ہو گیا تھا جو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اذا سر تک حسنتک وساەتک سیئتک فانت مؤمن (مشکاة المصابیح ار (۲۰) یعنی جب نیکی کر کے تم کو خوشی ہو اور برائی کر کے تم کو دکھ ہو تو سمجھ لو کہ تم مؤمن ہو۔

برائی کے بعد نیکی کرنا نیکی کے بارے میں اپنی حساسیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ یہ برائی کے میل کو نیکی کے پانی سے دھو کر اس کو صاف کر دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page