منصفانہ رویہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰
منصفانہ رویہ
قرآن (المائدہ ۸) کے مطابق، اللہ پر ایمان لانے والے ہر شخص کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے قول اور اپنے فعل کو منصفانہ بنانے کا پورا اہتمام کرے، گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہر جگہ وہ عدل کی روش پر قائم رہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ دوسروں سے اس کو شکایت پہنچی ہو، جب کہ دوسروں نے اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کیا ہو۔
اس آیت کا دوسرا پہلو وہ ہے جو داعی اور دعوت سے تعلق رکھتا ہے۔ حق کا داعی جب کسی ماحول میں دعوت کا کام شروع کرتا ہے تو وہ ایک بگڑا ہوا ماحول ہوتا ہے۔ اگر لوگ بگڑے ہوئے نہ ہوں تو دعوتِ کام کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ زیادتی کر کے داعی گروہ کے حقوق چھین لیتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ سیاسی غلبہ حاصل کر کے داعی گروہ کو مغلوبیت کی حالت میں مبتلا کر دیتا ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنے حق سے زیادہ لے لیتا ہے اور داعی گروہ کو اپنے حق سے کم پر راضی ہونے کے لئے مجبور کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں داعی گروہ سخت نازک حالات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اب اگر داعی گروہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے تو ایسا ہو گا کہ داعی گروہ کے دل میں مدعو گروہ کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اس کا لٹریچر مدعو گروہ کی ظالمانہ داستانوں سے بھر جائے گا۔ اس کی مجلسوں سے لے کر اس کی صحافت اور ادب تک ہر جگہ مدعو گروہ کی زیادتیوں کا چرچا ہونے لگے گا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہو گا کہ داعی گروہ اور مدعو گروہ کے درمیان وہ معتدل فضا ہی ختم ہو جائے گی جو دعوتی عمل کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues