Al-Risala · November 1998 · page 11

اشاعت فاحشہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱

اشاعت فاحشہ

قرآن (النور (19) میں اشاعت فاحشہ کو سخت جرم بتایا گیا ہے۔ اشاعت فاحشہ کا مطلب ہے برائیوں کا چرچا۔ یعنی آدمی کا مزاج یہ ہو جائے کہ وہ دوسروں میں کوئی بھلائی دیکھے تو لوگوں کے درمیان اس کا چرچانہ کرے۔ لیکن اگر کسی کے بارے میں صحیح یا غلط طور پر کوئی بری بات اس کے علم میں آجائے تو فوراً اس کو ہر ایک سے بیان کرنے لگے، وہ اس کو پورے معاشرے میں پھیلا دے۔ یہاں تک کہ وہ شخص اتنا زیادہ بدنام ہو جائے کہ اس کے بارے میں لوگ کوئی اچھی بات سنیں تو یقین نہ کر سکیں۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ کسی منافقانہ معاشرہ کی پہچان کیا ہے۔ کسی معاشرہ میں اگر ایسا ہو کہ اس کے افراد ایک دوسرے کے بارے میں انتخابی رپورٹنگ (selective reporting) کرنے لگیں۔ یعنی کسی آدمی میں اگر 99 بات اچھی ہو تو وہ اس کا چرچانہ کریں۔ البتہ اگر اس کے بارے میں کوئی ایک بری بات معلوم ہو جائے تو وہ فوراً اس کی اشاعت شروع کر دیں۔ انہیں کسی کے بارے میں تعریفی بات کہنا اچھا نہ لگے، البتہ بری بات کہنا ان کے لئے محبوب ہو جائے۔ جس معاشرے کے افراد کا یہ حال ہو وہ معاشرہ بلاشبہ منافقوں کا معاشرہ ہے، وہ مخلص انسانوں کا معاشرہ نہیں۔ کسی معاشرہ میں جب یہ مزاج عام ہو جاتا ہے تو وہ انفرادی نفاق پر نہیں رکھتا۔ اب نفاق ہی اس کے تمام اداروں کا عام کردار بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں مجلسوں میں ہونے والی گفتگوئیں، جلسوں میں ہونے والی تقریریں، حتی کہ اخباروں میں چھپنے والی خبریں، ہر ایک کا انداز یہی ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرہ کی ہر سرگرمی نفاق کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ ایسے معاشرہ کے مذہب کو، ایک لفظ میں نفاق کلچر کہا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page