سفر امریکہ ۴
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹
تاتاریوں نے ہزاروں مسلمانوں کو پکڑ کر اپنا خادم بنا لیا۔ یہی غلام اور خادم تھے جنھوں نے خاموش تبلیغ کے ذریعہ تاتاریوں کو مسلمان بنا دیا۔ یہ مسلمان اگر سوچتے کہ میں اپنے آپ کو ان دشمنوں کی خدمت میں کیوں لگاؤں تو تاتاریوں کے درمیان دعوت کا عمل شروع ہی نہ ہوتا اور اسلام کی تاریخ کا وہ شاندار باب کبھی نہ لکھا جاتا جس کو اقبال نے اس طرح نظم کیا ہے : ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان یہاں دعوتی مقصد کے تحت رہیں ، اور بقیہ چیزوں کو اپنے ذہن سے بالکل نکال دیں۔
ماونٹ ہالی کے سنٹر کی پشت پر بہت دور تک کھلا ہوا سر سبز میدان ہے۔ سنٹر کا ایک دروازہ اس کی طرف کھلتا ہے۔ ۶ستمبر کی صبح کو میں نے یہ دروازہ کھولنا چاہا تو وہ غیر مقفل تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں اسی طرح دوسرے دروازے بھی غیر مقفل پڑے رہتے ہیں۔ یہاں چوری وغیرہ کا کوئی اندیشہ نہیں۔ جب کہ اس سے پہلے جب میں نیو یارک میں تھا تو وہاں دروازہ کو پوری طرح بند رکھنا پڑتا تھا، کیونکہ وہاں چوری کا بھی اندیشہ رہتا ہے اور تشدد کا بھی۔ اب اگر کوئی شخص صرف نیو یارک کی ایک خبر لے کر اس کو جنرلائز کرے تو وہ کہے گا کہ امریکہ جرائم کا ملک ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ماونٹ ہالی کی مثال لے کر اس کو جنرلائز کرے تو وہ امریکہ کی بالکل دوسری تصویر پیش کرے گا جس میں امریکہ اسلام کی اخلاقی قدروں کا حامل دکھائی دینے لگے گا۔
تاریخ کی اکثر غلطیاں اسی قسم کے غلط جنرلائزیشن کے نتیجہ میں پیش آئی ہیں۔ لوگ صورت حال کا زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ نہیں کرتے۔ ان کے سامنے پوری تصویر کا کوئی ایک پہلو آتا ہے۔ اسی ایک پہلو کو وہ کل پہلو سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر اس کے بارہ میں ایک کلی بیان دے دیتے ہیں۔ اس قسم کا بیان ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ جنرلائزیشن کی یہ غلطی اسلامی تاریخ یا مسلم سماج کے بارہ میں بھی کی جاتی ہے اور دوسروں کے بارہ میں بھی۔
۶ستمبرکو جمعہ کا دن تھا۔ مجھ سے خطبہ کے لیے اور نماز پڑھانے کے لیے کہا گیا۔ میں نے اس سے معذرت کی۔ البتہ خطبہ سے پہلے ۲۰ منٹ کی ایک تقریر کی۔ پہلے 10 منٹ تک
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues