سفر امریکہ ۴
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰
انگریزی میں اور اس کے بعد 1 منٹ اردو میں۔
اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر آپ مکہ اور مدینہ جائیں تو وہاں آپ صحابہ کی بہت کم قبریں پائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ اسلام کا پیغام لے کر ساری دنیا میں پھیل گئے۔ چنانچہ ان کی قبریں بھی زیادہ تر باہر ہیں۔ حضرت عبادہ بن ثابت کی اہلیہ کی قبر قبرص میں ہے۔ حضرت خالد کی قبر حمص میں۔ حضرت معاذ بن جبل کی قبر اردن میں، وغیرہ۔
میں نے کہا کہ تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرارہی ہے۔ دوبارہ مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر امریکہ میں اور دوسرے مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں آگئے ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ ابتداً معاش کے جذبہ کے تحت آئے تھے۔ مگر حالات نے انہیں بتایا کہ تمہیں اسلام کی نمایندگی کرنا ہے، ورنہ تم اپنا وجود کھو دو گے۔ چنانچہ آج یہ مسلمان تمام مغربی دنیا میں کثرت سے مسجد اور اسلامی مرکز اور دینی ادارے بنارہے ہیں۔ بے شمار تعداد میں اسلامی لٹریچر لوگوں تک پہنچارہے ہیں۔ ان کا وجود بذات خود یہاں اسلام کو موضوعِ بحث بنا دیتا ہے۔ یہاں ایک مسلمان ڈاکٹر کا حال معلوم ہوا۔ وہ اپنے فن میں نہایت ماہر ہیں۔ انھوں نے یہاں تقریباً ایک ملین ڈالَر کمایا۔ شاندار مکان بنایا۔ بچوں کو نہایت اعلیٰ تعلیم دلائی۔ مگر اب ان کا جھگڑا خود اپنے بیوی بچوں سے ہوگیا ہے۔ بیوی بچے ایک طرف ہیں اور وہ دوسری طرف۔ زندگی سخت پریشانیوں کا شکار ہو گئی ہے۔ ذیابیطس اور دوسری بیماریاں بھی انہیں لاحق ہوگئی ہیں۔ شاندار مکان، شاندار کاریں اور شاندار بزنس، کسی چیز میں اب ان کے لیے سکون باقی نہیں رہا۔ جھگڑے کا آغاز یہاں سے ہوا کہ ان کے مطب میں لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ بیوی کو اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب پر شبہ ہو گیا۔ بات بڑھتے بڑھتے آخری حد پر پہنچ گئی۔ اس طرح کے واقعات یہاں بہت زیادہ ہیں۔ امریکہ ایک طرف دولت کی کثرت کی جگہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اس بات کی بھی ایک عبرت ناک مثال ہے کہ مادی فراوانی کبھی کسی کو سکون نہیں دیتی۔
۷ ستمبر ۱۹۹۶ء کو اسلامی مرکز (ماونٹ ہالی) میں نمازِ فجر کے بعد مجھ سے درس کے لیے کہا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues