Al-Risala · November 1998 · page 21

سفر امریکہ ۴

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

حاضرین میں زیادہ تر انگریزی جاننے والے تھے۔ اس رعایت سے میں نے انگریزی میں حدیث کا درس دیا۔ یہ درس اس حدیث پر مبنی تھا : من صلى (الصبح فهو في ذمة الله (جس نے صبح کی نماز ادا کی وہ اللہ کی گارنٹی میں آگیا)

میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز مصلیوں کے اندر ایسے انسانی اوصاف پیدا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ دوسروں کی طرف سے مامون و محفوظ ہوجاتے ہیں۔ ان صفات کو چار الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے ــ تواضع ، تشکر ، اطاعت ، سلامتی ، ڈسپلن : modesty, thanksgiving, submission, peace, discipline. ابتدائی چار صفات انفرادی اخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ پانچویں صفت اجتماعی صفت ہے اور وہ نماز با جماعت کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے ۔

مولانا ذکی الدین شرفی یہاں مسلسل طور پر مختلف قسم کے اسلامی پروگرام چلا رہے ہیں۔ ۸ ستمبر کو جناب فضل الرحمن صاحب کے مکان پر ہفتہ وار پروگرام تھا۔ صبح سویرے روانہ ہو کر ہم لوگ فضل الرحمن صاحب کے مکان پر پہنچے۔ یہاں اور بھی کئی لوگ اکٹھے تھے۔ ان کے مکان کے بیسمنٹ میں فجر کی نماز ادا کی گئی۔ مولانا ذکی الدین صاحب کی مؤثر قرأت نے اس کو بہت پُر تاثیر بنا دیا۔ نماز کے بعد مولانا ذکی الدین شرفی نے قرآن کا درس دیا۔

آخر میں میں نے یہ حدیث پڑھی : ذاق طعم الايمان من رضى بالله ربا وبمحمد رسولا وبالاسلام دینا۔ میں نے کہا کہ ایمان اور اسلام کا ایک فارم ہے اور دوسری چیز اس کی روح اور اسپرٹ ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے ایک پھل میں چھلکا اور مغز ہوتا ہے۔ ذائقہ والی دین داری کو اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ فارم سے گزر کر روح اور اسپرٹ تک پہنچ جائے۔ اللہ کا نام لینا ایک ظاہری اعتبار سے ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب آپ اللہ کا نام لیں تو اللہ کی صفات کمال کو یاد کر کے آپ کا سینہ لرز اٹھے۔ اس کا نام پر ذائقہ ایمان ہے۔ نماز کی ایک ظاہری ادائیگی ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ نماز ادا کرتے ہوئے آپ کی پوری شخصیت خشوع اور تواضع کے احساسات میں ڈھل جائے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ حساب کر کے مقرر رقم کسی کو دے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب آپ رقم دے رہے ہوں تو آپ الذین

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page