سفر امریکہ ۴
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
یونتون ما آتتی وقلوبہم وجلة کی تصویر بنا ہوا ہو۔ یہی معاملہ تمام اسلامی اعمال کا ہے۔ پروگرام کے بعد ناشتہ کی مجلس میں ہالینڈ سے آئے ہوئے ایک صاحب نے بتایا کہ المعجم المفهرس الالفاظ الحديث النبوی ہالینڈ کے شہر لائیڈن میں پہلی بار اٹھارویں صدی میں چھاپی گئی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہاکہ ڈچ لوگوں نے جب یہ منصوبہ بنایا کہ مسلم قوموں کو غلام بنائیں تو انھوں نے اپنے غلاموں کے مزاج اور مذہب کو سمجھنے کے لیے اس قسم کے کام کیے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا کام مغربی ملکوں نے موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر کیا ہے۔ مگر ان کو سازش وغیرہ سمجھنے کے، بجائے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان کو اس حدیث کا مصداق قرار دیا جائے ۔ ان اللہ لیؤيد هذا الدين برجل فاجر (اللہ اس دین کی تائید برے آدمی کے ذریعہ بھی کرے گا)
۷ ستمبر کی شام کو ہم لوگ اسلامک سوسائٹی ، سنٹرل جرسی پہنچے۔ یہاں عصر اور مغرب کے درمیان میرا خطاب رکھا گیا تھا۔ یہ کافی وسیع اور شاندار مرکز ہے۔ اس میں مسجد کے علاوہ کئی شعبے ہیں ۔ حاضرین میں بیشتر غیر اردو داں تھے۔ اس لیے یہاں مجھ کو انگریزی میں خطاب کرنا پڑا۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ مسلمانوں کے موجودہ مسائل کا واحد حل دعوہ ورک ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی حیثیت آئیڈیا لوجیکل سپر پاور کی ہے ۔ اسلام کو بطور دعوت پیش کرنا ہی اس وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ مگر ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور دعوت کی بھی ایک قیمت ہے۔ یہ قیمت مدعو سے یک طرفہ محبت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسلام کی دعوتی قوت کو استعمال کریں تو آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا مدعو کوئی استثنائی طور پر ظالم نہیں ہے۔ مدعو سے ہمیشہ ہی داعی کو ظلم و زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم ضروری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دعوت کا کام کرو تو تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا۔ گویا کہ ہر دشمن امکانی طور پر ہمارا دوست ہے۔ مگر یہ دشمن اس وقت دوست بنتا ہے جب کہ اس کی زیادتی کے باوجود اس کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سے اس عمل کی مثالیں بیان کیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues