Al-Risala · November 1998 · page 23

سفر امریکہ ۴

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳

سنٹرل جرسی کی اسیلامک سوسائٹی میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان میں کئی عرب بھی تھے ۔ یہ ادارہ سنہ ۱۹۰۸ میں قائم ہوا ۔ اس کے سابق صدر سے میں نے پوچھا کہ کیا اس کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ پیش آئی ، انھوں نے کہا کہ کوئی رکاوٹ نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی پڑوسیوں سے ہمارا رشتہ اچھا ہو۔ پولیس سے بہتر تعلق ہو اور دوسرے اداروں کو ہم نے شکایت کا موقع نہ دیا تو یہاں کبھی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ، یہ بات جناب محمد عبد الحمید صدیقی نے بتائی۔ وہ ۱۹۷۱ سے امریکہ میں ہیں۔ اور اسلامک سوسائٹی ، سنٹرل جرسی کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ نیو جرسی ایک اسٹیٹ ہے ، جس کا ایک حصہ جرسی ہے۔ یہ علاقہ بہت زیادہ سر سبز ہے۔ ہر طرف باغات اور زرعی فارم پھیلے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ اس کو گارڈن اسٹیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ ۵ ستمبر کی شام کو عصر اور مغرب کے درمیان ماؤنٹ ہالی کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں زیادہ تر عورتیں شریک تھیں۔ اس میں خطاب کا موضوع تھا کہ امریکی معاشرہ میں بچوں کا اسلامی تحفظ ۔ اس پر بولتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا :

میں نے کہا کہ اگلی نسل کا اسلامی تحفظ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک مولوی صاحب کو مقرر کردیں جو روزانہ شام کو آکر دینیات پڑھا دیں۔ یا کوئی دینی رسالہ آپ اپنے بچوں کے نام جاری کر دیں۔ یا انھیں کلچرل نوعیت کی کچھ چیزوں کا عادی بنانے کی کوشش کریں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کو اسلامائز کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کو اسلامائز کیجئے ۔ آپ کے گھر میں دنیا کا چرچا نہ ہو بلکہ دین کا چرچا ہو۔ گھر کا ماحول مادی رنگ میں رنگا ہوا نہ ہو بلکہ آخرت کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔

دوسری بات یہ کہ آپ اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ پیدا کریں۔ یہ ایک اصول ہے کہ جو داعی نہیں بنتا اس کو مدعو بننا پڑتا ہے۔ اس لیے اگر آپ نے اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ نہیں پیدا کی تو وہ دوسروں سے متاثر ہو کر رہیں گے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔

تیسری چیز یہ کہ یہاں ہر بچہ انگریزی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ مگر اس کے ساتھ ضروری ہے کہ بچہ کو اردو یا عربی زبان بھی ضرور پڑھائی جائے ، تاکہ وہ اسلامی لٹریچر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page