O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵
اس پروگرام میں ایک فلسطینی نوجوان امام یحییٰ الھندی (5439449-202 .Tel) بھی تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور نہایت سنجیدہ بھی۔ انھوں نے کہا کہ اسنا کی کانفرنس میں ایک اسٹال پر میں نے آپ کی انگریزی کتابیں دیکھیں۔ ان کا ٹائٹل (نام) مجھے بہت پسند آیا۔ اور میں نے تمام کتابیں خرید لیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے میں ایک مسجد میں امام تھا۔ وہاں انتہا پسند عربوں کا غلبہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ نماز کے بعد یہ دعا کرو کہ اے خدا، امریکہ کو تباہ کر دے (O Allah, destroy America) مگر میں اس قسم کی دعا نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ وہاں اتنا اختلاف بڑھا کہ مجھے وہاں سے چھوڑ دینا پڑا۔
ڈاکٹر عرفان انیس عمر (ٹمپل یونیورسٹی) بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں امریکی مسلمانوں کے اندر ایک بڑی تبدیلی محسوس کر رہا ہوں۔ چند سال پہلے جب میں یہاں آیا اس وقت یہ حال تھا کہ امریکہ کا لفظ لوگوں کی زبانوں میں زہر گھول دیتا تھا۔ مگر آج وہ شدت ختم ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اب لوگ حقیقت پسندی کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اسلامی مرکز کے ذریعہ ۱۹۷۰میں’’حدیبیہ پرنسپل" کو اختیار کرنے کے نام پر جو فکری مہم شروع کی گئی تھی وہ آج نہ صرف انڈیا میں بلکہ امریکہ تک کے فکر کو متاثر کر رہی ہے اور اسی کے ساتھ ہر جگہ دعوت کے راستے کھل رہے ہیں۔ حدیبیہ پرنسپل کو ابتدائی لوگوں نے بزدلی اور پسپائی سے تعبیر کیا تھا۔ مگر آج ساری مسلم دنیا میں بلا اعلان یا اعلان کے ساتھ یہی فکر چھاتا چلا جا رہا ہے۔ ۔ حدیبیہ پرنسپل دراصل نام ہے یک طرفہ طور پر مصالحانہ انداز اختیار کر کے داعی اور مدعو کے درمیان نارمل تعلق قائم کرنے کا، تاکہ دعوت کا عمل جاری ہو جائے۔ یہ عمل آج شروع ہو چکا ہے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ ایک صحیح عمل جب شروع ہو جائے تو وہ اپنے اختتام پر پہنچ کر رہتا ہے۔
امام یحییٰ نے بتایا کہ یہاں ایسے مسلمان ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ، تو امریکہ کو تباہ کر دے :
O Allah, destroy America.
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues