O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶
میں نے امریکہ کے زمانۂ قیام میں یہاں کی ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ دوسری رکعت کے آخر میں امام صاحب نے ہاتھ اٹھا کر قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں انھوں نے کہا: اللهم عذب الكفرة والمشريكين الذين يصدون عن سبيلك ويقاتلون اولياءك (اے اللہ! کافروں اور مشرکوں کو عذاب دے جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور تیرے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں)
ایک مسلم رہنما کے جلسہ میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے امریکہ کے خلاف پرجوش تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ملک کے اندر آپ نہایت اچھا نظام دیکھیں گے۔ یہاں انھوں نے مکمل ڈیموکریسی قائم کر رکھی ہے۔ مگر یہی لوگ ہیں جو عراق میں بم گراتے ہیں۔ جو اپنے مفاد کی خاطر مسلم ملکوں کو لڑاتے ہیں۔ اپنے ملک کے اندر وہ جمہوری ہیں اور باہر کے ملکوں میں منافق: Democracy at home, hippocracy abroad مسلمانوں کی اکثریت اپنی زبان سے اسی قسم کی باتیں کرتی ہے۔ اس کے باوجود مولانا ذکی الدین شرفی کے بیان کے مطابق، تقریباً ۹بلین مسلمان اپنے ملکوں سے آ کر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلم نوجوانوں کی پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح امریکہ پہنچ جائے۔ حالانکہ امریکہ کا شہری بننے کے لیے جو حلف لینا پڑتا ہے وہ روایتی اسلامی عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ ایک دین دار مسلمان جنھوں نے یہ حلف لے کر امریکی شہریت حاصل کی ہے، ان سے کہا گیا کہ ایسے غلط حلف پر کیوں آپ نے دستخط کیا۔ وہ بولے، میاں، میں نے جج کے سامنے ہاتھ تو ضرور اٹھا دیا تھا مگر میں اس وقت بھی اپنے دل میں اس پر لاحول پڑھ رہا تھا۔ مزید یہ کہ ایک صاحب کے بیان کے مطابق، یہاں آنے والے مسلمانوں میں بمشکل دو فی صد مسلمان ہیں جو یہاں کی مسجدوں یا اسلامی اداروں سے وابستہ ہیں۔ بقیہ ۹۸ فی صد مسلمان صرف اپنی دنیوی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔
یہ چند واقعات بتاتے ہیں کہ جو مسلمان امریکہ میں آ کر آباد ہوئے ہیں، ان کی دینی اور اخلاقی حالت کیا ہے۔
9 ستمبر کو مولانا ذکی الدین شرفی سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ گفتگو ماؤنٹ ہالی کے اسلامک سنٹر میں ہوئی۔ موضوع موجودہ مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ میں نے کہاکہ جہاں تک ہندوستانی مسلمانوں کا تعلق ہے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues