O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹
اوپر درود و سلام بھیجا سوا جبریل کے لوگوں نے پوچھا کہ جبریل کیوں نہیں۔ عالم نے جواب دیا کہ چائے آنے تک وہ رکے ہوئے ہیں۔
اس قسم کے لطیفے لوگوں کو بہت پسند آتے ہیں۔ مگر وہ میرے ذوق کے سراسر خلاف ہیں۔ جس طرح ہر چیز کی ایک حد ہے اسی طرح لطیفہ کی بھی حد ہے۔ وہ یہ کہ لطیفہ کو عام انسانوں تک محدود رہنا ہے نہ کہ وہ فرشں جیسی مقدس ہستی تک جا پہنچے۔
ایک صاحب پاکستان سے اگر امریکہ میں آباد ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک امریکی نو مسلمہ سے شادی کی۔ گھر میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی بات پر میری اور ان کی تکرار ہو جاتی اور ہم دونوں میں جھگڑا ہو جاتا۔ اس طرح گھر کے اندر سکون نہیں رہتا تھا۔ آخر کار مجھے آپ کا رسالہ ملا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میرے گھر کی حالت بالکل درست ہو گئی۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا ”تین منٹ“ اس میں ایک واقعہ لکھ کر بتایا گیا تھا کہ امن اور بے امنی کے درمیان صرف تین منٹ کا فاصلہ ہے۔ جب کوئی شخص تلخ بات کہے اور آپ کے اندر اشتعال پیدا ہو جائے تو تین منٹ کے لیے وہاں سے ہٹ جائیے۔ اس کے بعد اپنے آپ دونوں کا دماغ ٹھنڈا ہو جائے گا اور سکون کی حالت واپس آجائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ایسے مواقع پر میں ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں اور اب میری گھریلو زندگی نہایت سکون کی زندگی ہے۔ اگر مجھے الرسالہ ملتا تو شاید میرے یہاں طلاق کی نوبت آجاتی۔
امریکہ میں آپ جس مسلمان سے بھی ملیں، اس کی سب سے بڑی فکر اس کا بچہ ہوگا۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ مجھے اپنی ایرکنڈیشنڈ کار میں بٹھا کر اپنے گھر لے گئے۔ پھر وہاں اپنے ایر کنڈیشڈ کمرہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ فکر ان بچوں کی ہے۔ آپ بتائیے کہ ان کی آخرت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
میں نے کہا کہ آخرت کی کامیابی آخرت کے لیے مطلوب عمل کرنے سے ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آدمی کی ساری تو توجہ دنیا پر لگی ہوئی ہو۔ اور اسی کے ساتھ اسے آخرت بھی تحفہ کے طور پر مل جائے ۔ میں نے کہا کہ آپ نے حدیث میں پڑھا ہوگا کہ ان شدة الحق من قبیح جہنم
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues