Al-Risala · November 1998 · page 30

O Allah, destroy America.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰

(گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جہنم کے ابتدائی تجربات رکھے ہیں تاکہ آدمی ان سے گزر کر جہنم سے بچنے کی فکر کر سکے۔ مگر آپ لوگوں کی ساری کوشش یہ ہے کہ اپنے بچہ کو اس طرح رکھیں کہ اس کو کسی قسم کی تکلیف کا تجربہ نہ ہونے پائے۔

یہ طریقہ خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ خدائی اسکیم میں جنت کا راستہ جہنم کے تجربات سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور آپ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو جنت کی ٹھنڈی ہواؤں سے گزارتے ہوئے جنت کے دروازہ میں داخل کر دیں۔

مولانا ذکی الدین شرفی ۱۹۸۹ میں آٹھویں سالانہ کانفرنس کے تحت تہران گئے۔ انھوں نے بتایا کہ شہر کی ایک مسجد میں وہ داخل ہوئے تو وہاں دیوار پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : یا خدا، تا ظہور مہدی منتظر نہضت خمینی را حفاظت بفرما (اے خدا، مہدی کی آمد تک خمینی انقلاب کی حفاظت فرما) مگر یہ دعا قانون فطرت کے خلاف ہے۔ اس دنیا کا قانون ہے کہ کوئی بھی انقلاب یہاں اپنی ابتدائی صورت میں صرف پہلی جنریشن تک رہتا ہے۔ اس کے بعد لازماً اس کا تنزل شروع ہو جاتا ہے۔ ایران کے انقلاب پسند صرف اپنے لیڈر کو جانتے تھے۔ اگر وہ قانون فطرت کو جانتے تو وہ مسجد میں اس قسم کے الفاظ نہ لکھتے۔ اس قسم کی دعا ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص بہار کا موسم پائے تو یہ دعا کرنے لگے کہ اے خدا، اب کبھی مجھے خزاں کو دیکھنا نہ پڑے۔ ۹ ستمبر کو دوپہر کے کھانے پر کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کا ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) ہے۔ وہ چیزوں کو سفید و سیاہ میں دیکھ پاتے ہیں۔ حالانکہ یہ نظام فطرت کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کسی پہاڑی علاقہ میں جائیں تو وہاں بے شمار چشمے بہتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ آپ وہاں کھڑے ہو کر دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ بار بار پانی کے راستہ میں پتھر کے ٹکڑے آتے ہیں۔

اب پانی کے لیے بظاہر دو چوائس ہے۔ یا تو وہیں ٹھہر جائے۔ یا پتھر کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرے۔ عام آدمی کہے گا کہ ایسی حالت میں ٹھہرنا تو پسپائی قبول کرنا ہے۔ اس لیے پانی کو چاہیے کہ وہ درمیانی پتھر کو توڑ کر اپنے لیے سیدھا راستہ بنائے۔ مگر پانی ایسا نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page