Al-Risala · November 1998 · page 31

O Allah, destroy America.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱

وہ خدا کی دی ہوئی فطرت کے مطابق، دائیں اور بائیں سے راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ انسان کو بھی، یہی فطری کورس اختیار کرنا ہے۔ اس کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ جب دورانِ سفر کوئی رکاوٹ آجائے تو وہ سمجھے کہ میرے لیے یا تو ٹکراؤ کی صورت ہے یا پسپائی کی صورت۔ اس کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ غور کرے تو عین وہیں اس کے لیے تیسری صورت موجود ہوگی جس کو اختیار کرکے وہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

کسی ملک کا کوئی آدمی اگر خصوصی لیاقت والا (exceptionally qualified) ہو اور وہ امریکہ آنا چاہے تو اس کو اس کے ملک کا امریکی سفارت خانہ فوراً ویزا دے دے گا۔ ایسے شخص کے لیے یہاں آکر کام کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہ امریکی نظام کی ایک طاقت ہے۔ اس کی وجہ سے امریکہ کو دنیا بھر کے بہترین دماغ حاصل ہوگئے ہیں۔ اس معاملہ میں یہ لوگ اتنے فراخ دل ہیں کہ بظاہر ایک دشمن ملک کا آدمی بھی اگر خصوصی لیاقت رکھتا ہے تو وہ بلا امتیاز یہاں اپنے لیے جگہ پاسکتا ہے۔ چنانچہ روس کے بہترین سائنس داں آج امریکہ میں آکر کام کر رہے ہیں۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ یہودی پہلے زمانہ میں مسلسل حکومتوں کی تعذیب کا شکار ہوئے۔ وہ کسی بھی ملک میں ترقی نہ کر سکے۔ مگر موجودہ زمانہ میں وہ ہر ملک میں، خاص طور پر امریکہ میں غیر معمولی ترقی کر رہے ہیں۔ اس کا سبب کوئی نئی سازش نہیں ہے، بلکہ زمانہ کا فرق ہے۔ پچھلے زمانہ میں بادشاہی نظام ہوتا تھا۔ عام لوگوں کو آزادی حاصل نہ تھی۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی حکمراں کے دائرہ کو محدود کر دیا گیا ہے۔ آج ہر فرد اور ہر قوم کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہودیوں نے اس جدید امکان کو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ اس طرح پچھلے زمانوں میں کامیاب نہ ہونے والے جدید دور میں کامیاب ہوگئے۔

میں نے کہا کہ یہودیوں کی جو صفات آج ہیں، وہی صفات ان میں پہلے بھی تھیں۔ مگر قدیم زمانہ کا سیاسی نظام انھیں موقع نہیں دیتا تھا۔ جب کہ جدید زمانہ کے سیاسی نظام نے انھیں موقع دے دیا۔

امریکہ میں انفرادی آزادی کو خیر مطلق کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زبردستی نہیں کر سکتے۔ اگر وہ ایسا کریں تو وہ قانون کی نظر میں مجرم بن

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page