O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲
جائیں گے۔ مثلاً لڑکا اگر اپنے ساتھ ایک گرل فرینڈ لے کر گھر میں آئے۔ یا لڑکی ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر میں داخل ہو تو ماں باپ اس کو روک ٹوک کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ یہ معاملہ اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ والدین مجبور ہو کر اپنی بیٹی سے یہ کہنے لگے ہیں کہ تم کو بوائے فرینڈ بنانا ہے تو کسی مسلمان لڑکے کو بناؤ۔
اصل یہ ہے کہ یہاں جو مسلمان آئے وہ ہمہ تن دولت کمانے پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے پاس نہ بچوں کی تربیت کے لیے کوئی موقع رہا اور نہ دین سے وابستگی قائم رکھنے کا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں کے مسلمانوں میں بہ مشکل دو فی صد ایسے مسلمان ہوں گے جو مسجدوں اور اسلامی سنٹروں سے جڑے ہوں۔ گویا ۹۸ فی صد تعداد رات دن صرف دنیا میں مشغول رہتی ہے۔ یہ لوگ ابتدائی دینی ذمہ داری بھی پوری نہیں کرتے، داعیانہ زندگی اختیار کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسے غرق دنیا لوگوں کا انجام وہی ہونا ہے جو امریکہ کی مسلم نسلوں کا ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے بھاگ کر دوسرے ملکوں میں جا رہے ہیں۔ مگر جو دنیا پرستانہ ذوق انھوں نے اپنے گھر میں پیدا کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو وہ دوبارہ بھاگ کر امریکہ چلا آتا ہے۔
جناب محمد زکی الدین شرفی کو، یہاں عام طور پر " امام ذکی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ وہ نہایت مخلص اور نہایت ذہین آدمی ہیں۔ انھوں نے امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔ مگر ان کی سوچ میں منفی اندازِ اتنا رچ بس گیا ہے کہ وہ انتہائی مُثبت واقعے میں بھی حیرت انگیز طور پر منفی پہلو دریافت کر لیتے ہیں۔ ۱۳ ستمبر کو ایک گفتگو کے بعد میں نے ان کی بابت اپنی ڈائری میں حسب ذیل الفاظ لکھے :
Maulana Zaki has a unique expertise to convert a positive into a negative. In contrast, I always try to find some positive points even from obviously most negative situation. ۱۴ ستمبر کو مولانا زکی الدین شرفی سے پاکستان اور مسلم ممالک کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے سلسلے میں انھوں نے کہا کہ اس تعلق سے لوگوں کو آپ سے کافی شکایت ہے ۔ میں نے کہا کہ وہ ساری شکایت غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ میں نے ان کے اوپر تنقید
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues