وَن مین ٹومشن
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۶
وَن مین ٹومشن
۸ دسمبر، ۱۹۹۴ء کو مسٹر مقصود عالم (پیدائش ۱۹۳۶) سے ملاقات ہوئی۔ وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور دہلی میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اپنی دیانت اور مہارت کی بنا پر وہ لوگوں کے درمیان ایک مقبول شخصیت بن گئے ہیں۔ میرا طریقہ ہے کہ جب میں کسی سے ملتا ہوں تو اس سے یہ کہتا ہوں کہ اپنی زندگی کے تجربات بتائیے۔ چنانچہ مسٹر مقصود عالم سے بھی میں نے یہی سوال کیا۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کئی تجربات بتائے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ اس انسان کی ایک کامیاب مثال ہیں جس کو خود انھیں کے الفاظ میں ایک آدمی، دومشن (one man, two mission) کہا جا سکتا ہے۔
اپنے مشن میں دیانت دارانہ خدمت کی وجہ سے وہ دہلی کے اعلیٰ طبقوں میں ایک قابلِ اعتماد شخص بن گئے ہیں۔ ان کی بات کو لوگ سنتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اپنی اس پوزیشن کا وہ مزید فائدہ اٹھارہے ہیں کہ وہ مذہبی اور رفاہی اور تعلیمی اداروں کی رضا کارانہ خدمت کر رہے ہیں۔ وہ ان اداروں کو نہ صرف مفید قانونی مشورے دیتے ہیں بلکہ ان اداروں کو صاحب حیثیت افراد سے مسلسل تعاون دلاتے رہتے ہیں۔ ان کے کہنے پر یہ لوگ خوشی سے ان اداروں کو تعاون دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب مقصود عالم صاحب ان کے لیے سفارش کر رہے ہیں تو وہ ضرور ایسا ادارہ ہوگا جس کی مدد کی جائے۔
یہ بلاشبہ ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ہمارے درمیان ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو ”وَن مین ٹومشن“ کا یہ رول ادا کرنے کے اہل ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ایک طرف وہ اپنی معاش کے لیے اپنا پسندیدہ کام کریں، دوسری طرف وہ یہ کریں کہ اپنی حاصل کردہ پوزیشن کو اس مقصد کے لیے استعمال کریں کہ اپنے حلقہ میں لوگوں کو آمادہ کریں کہ وہ ان اداروں کا تعاون کریں جو مختلف میدان میں انسانیت کی کوئی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح ہر آدمی بیک وقت دو کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی معاشی ضرورت فراہم کرے، اسی کے ساتھ وہ دوسروں کی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بن جائے۔
تعمیر ملت کا بہترین پروگرام یہ ہے کہ ہر آدمی ون مین ٹومشن کا نمونہ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues