Al-Risala · November 1998 · page 33

O Allah, destroy America.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

کی ہے۔ مگر تنقید تو خود مولانا مودودی کے تیار کردہ دستور جماعت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی طرح خلافت و ملوکیت میں انھوں نے لکھا ہے کہ اسلامی ریاست کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تنقید اور اظہار اختلاف کا کھلا ماحول موجود ہوتا ہے۔ پھر اس پر شکایت کیوں ۔ پھر میں نے کہا کہ تنقید کوئی برائی نہیں ۔ وہ ذہنی ارتقاء اور تخلیقی فکر (Creative thinking) کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ واحد شرط جو اس سلسلہ میں پیش کی جا سکتی ہے وہ یہ کہ تنقید کا تعلق صرف دماغ سے ہونا چاہیے ۔ دل کو اس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ، اور خدا کے فضل سے یہ بات میرے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے ۔

میں ان لوگوں میں نہیں ہوں جو دوسروں پر تنقید کریں اور اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر سمجھیں۔ میں مستقل طور پر اپنے آپ کو تنقید کے لیے پیش کرتا رہتا ہوں۔ مثلاً میرا معمول ہے کہ جب میں کوئی نیا مضمون لکھتا ہوں تو اپنی لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم کو دیتا ہوں کہ اس پر تنقید کرو۔ اسی طرح پچھلے تقریباً آٹھ سال تک مولانا انیس لقمان ندوی مستقل طور پر میرے ساتھ تھے ۔ وہ دہلی آئے تو میں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کہا کرتے تھے کہ رحم اللہ امرأ اهدی الی عیوبی۔ مولانا انیس لقمان ندوی سے میں نے کہا کہ آپ میرے لیے اس قول کا مصداق بنیے۔ چنانچہ چنانچہ وہ برابر میرے اوپر تنقید کرتے تھے اور میں نہایت شوق سے اس کو سنتا تھا۔

آج کل وہ ایک عرب ملک چلے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک عرب شیخ سے انھوں نے اپنے بارے میں کہا کہ : انا ناقد اکبر نافتد فی الھند (میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد کا ناقد ہوں)

جو لوگ تنقید سے منع کرتے ہیں وہ اپنی سادگی کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے چوائس تنقید اور بے تنقید میں ہے ۔ حالانکہ یہ چوائس تو ہے ہی نہیں۔ حقیقی چوائس جن دو کے درمیان ہے وہ تنقید اور ذہنی جمود ہے۔ یعنی آپ تنقید کو بند کریں تو جو چیز حاصل ہوگی وہ بے تنقید صورت حال نہیں ہوگی بلکہ ذہنی جمود ہو گا ۔

پھر میں نے کہا کہ میرے پاس اس بات کے واضح اور متعدد ثبوت موجود ہیں کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی پر سخت تنقید کے باوجود ان کے بارے میں میرے دل کے اندر بگاڑ نہیں آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page