Al-Risala · November 1998 · page 34

O Allah, destroy America.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴

۱۔ ان کے اوپر میں نے صرف علمی تنقید کی۔ میں نے کبھی ان کی نیت پر حملہ نہیں کیا۔ کبھی شخصی تنقیص نہیں کی۔ کبھی عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان استعمال نہیں کی۔ کبھی بھی اخلاص پر شبہ کرنے والی باتیں نہیں کیں۔ ہمیشہ تجزیاتی تنقید کا اسلوب اختیار کیا۔

۲۔ میری تحریروں سے جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والے افراد بھی متاثر ہوئے۔ کئی لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میری طرح وہ بھی جماعت اسلامی سے استعفاء دے دیں۔ مگر میں نے ہر ایسے شخص کو ہمیشہ استعفا دینے سے منع کیا۔ حتی کہ خود میری بیوی ابھی تک جماعت اسلامی کی رکن ہیں اور فہرست ارکان میں ان کا نام چھپا ہوا موجود ہے۔ میری علادگی کے بعد انھوں نے چاہا کہ وہ بھی جماعت کی رکنیت سے الگ ہو جائیں۔ مگر میں نے یہ کہہ کر انھیں روک دیا: جماعت اسلامی کے ارکان کی فہرست میں اپنا نام باقی رہنے دو۔ کیا معلوم کس بہانے اللہ تعالیٰ کے یہاں بخشش ہو جائے۔ ۳۔ تنقید کے باوجود مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قدر دانی میرے دل میں باقی رہی۔ اس کے ثبوت میں وہ دیباچہ دیکھا جا سکتا ہے جو میں نے اپنی کتاب ”علم جدید کا چیلنج“ کے دیباچہ کے طور پر لکھا تھا۔

۴۔ ۱۹۷۱ء میں میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے ملنے ہی کے لیے لاہور گیا۔ وہاں جب ذیل دار پارک میں ان سے ملاقات ہوئی تو مصافحہ کرتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ آنسو واضح طور پر قلبی تعلق کی نشانی تھے۔

۵۔ ہندوستان سے میں یہ سوچ کر لاہور گیا تھا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے مطالعہ کا جو کمرہ ہے اس میں کچھ دیر کے لیے بیٹھوں گا۔ چنانچہ اسی کمرہ میں میں نے ان سے ملاقات کی۔ اور بالکل عقیدت مندانہ انداز میں دیر تک اس کمرہ میں بیٹھا رہا۔

۱۰؍ستمبر کو محمد عادل خان انجینئر (۵۹ سال) کے یہاں شام کا کھانا تھا۔ وہ ایسٹ ایمپٹن (East Ampton) میں رہتے ہیں۔ ان کے مکان پر عورتوں اور مردوں کا ایک مختصر اجتماع ہوا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ایک نشست ہوئی جس میں سادہ انداز میں کچھ تذکیری باتیں کہی گئیں۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل عالم اسلام میں ایک کلمہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page