O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
مولانا صاحب، ہمارے لیے ہر نماز میں دعا کیجیے، اللہ ہمارے گھر میں سکون پیدا کر دے۔ اس واقعہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں کی بظاہر شاندار زندگی کے پیچھے کس قدر غیر شاندار زندگی ہے ۔ ٹیمپل یونی ورسٹی سے واپس ہو کر ہم لوگ جناب عثمان رومی کے مکان پر پہنچے جو یہاں کے ایک پُر فضا مقام پر واقع ہے (609-4242064 .Tel)۔ یہاں تعلیم یافتہ مردوں اور خواتین کا ایک اجتماع تھا۔ مغرب کی نماز یہاں مکان کے بیسمنٹ میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد مولانا ذکی الدین صاحب نے ایک تمہیدی تقریر کی۔ پھر میں نے خطاب کیا۔
میرے خطاب کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ لوگ جو امریکہ آئے وہ تقریبًا سب کے سب مادی غرض سے آئے اور مادی غرض سے آنا اسلام میں کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ تاہم یہ آپ کے لیے کوئی برائی کی بات نہیں۔ قرآن میں ہے کہ مومن کی سیئات کو بھی حسنات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے (الفرقان (۷۰) پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کا بظاہر غیر محمود سفر محمود سفر نہ بن جائے۔ میں نے کہا کہ امریکہ میں اگر بسنے کے معاملہ میں اب آپ یہ کریں کہ وہ نیت کر لیں جو صحابہ کرام کی نیت تھی۔ وہ بھی عرب سے نکل کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ وہاں انھوں نے تجارتیں بھی کیں۔ مگر ان کی نیت یہ تھی کہ تمام انسانوں تک اسلام کی دعوت پہنچائیں۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے سفروں کو اتنی برکت دی کہ اسلام متمدیم آباد دنیا کے بیشتر علاقوں میں پھیل گیا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ واقعہ اس قسم کا ارادہ کر لیں تو صحابہ کی تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرائے گی جس طرح پہلے زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں پھیلا تھا اسی طرح اسلام جدید نسلوں میں بھی پھیل جائے گا۔ پھر میں نے کہا کہ تاریخ کے اعادہ کا یہ پر اس بافعل شروع ہو چکا ہے۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کے انٹرایکشن کی بنا پر لوگ اسلام سے قریب آرہے ہیں۔ صرف امریکہ میں چار ملین سے زیادہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔
۱۲ ستمبر کی صبح کو حسب معمول سوال و جواب کی صورت میں ایک گفت گو ریکارڈ کی گئی۔ مولانا ذکی الدین شرفی کا نفرنس میں آنے والوں کے خیالات، اسلام اور مسلمانوں سے تعلق سے ریکارڈ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں میری بھی کئی تفصیلی گفتگو انھوں نے ریکارڈ کی ہے ۔ اس کے بعد ساڑھے دس بجے ان کے مشورہ پر امریکہ کے دیہات دیکھنے کے لیے ہم
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues