Al-Risala · November 1998 · page 38

O Allah, destroy America.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸

دونوں روانہ ہوئے۔ پہلے ہم لوگ بڑے بڑے زرعی فارموں سے گزرے جو سڑک کے دونوں طرف دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ تمام فارم نہایت منظم تھے اور ان کا کوڑا کچرا کنار، ان کا کوئی تنکا بھی سڑک پر یا فٹ پاتھ پر نظر نہ آیا۔ دیہات کے علاقے قابل دید تھے۔ دور دور بنے ہوئے خوب صورت مکانات، ہر مکان کے چاروں طرف صاف ستھرا سر سبز ماحول، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ دیہات نہیں ہیں بلکہ مسلسل پھیلے ہوئے سرسبز پارک ہیں جن کے درمیان کہیں کہیں رہائشی مکانات کھڑے ہوئے ہیں۔ ان دیہاتوں میں، کمیونی کیشن اور ٹرانسپورٹ اور سڑکوں وغیرہ کی سہولت بھی اعلیٰ درجہ میں موجود تھی۔

ایک جگہ کھلے میدان میں ایک ہی رنگ کی بہت سی بسیں کھڑی ہوئی تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ اسکول کی بسیں ہیں۔ یہاں گورنمنٹ کی طرف سے ۱۲ ویں درجہ تک کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا انتظام ہے۔ گورنمنٹ کی طرف سے بچوں کو لانے اور لے جانے کا مفت انتظام ہے۔ طالب علم کا گھر کہیں بھی ہو، صرف ایک طالب علم کو لینے کے لیے بس وہاں تک جائے گی۔ اس کا اصول یہ ہے کہ گھر اور اسکول کے درمیان اگر ایک میل کا فاصلہ ہے تو طالب علم کو خود چل کر اسکول پہنچنا ہے، اور اگر ایک میل سے زیادہ ہے تو گورنمنٹ بس اس کو لانے اور لے جانے کی ذمہ دار ہے۔ مولانا ذکی صاحب نے ایک جگہ گاڑی کھڑی کی۔ یہاں ایک سفید خوب صورت عمارت تھی۔ اس کے چاروں طرف نہایت صاف ستھرا ماحول تھا۔ ہندوستانی معیار کے اعتبار سے بظاہر وہ گورنر کا ریسٹ ہاؤس معلوم ہوتا تھا۔ مگر مولانا ذکی صاحب نے بتایا کہ یہ اس گاؤں کا پوسٹ آفس ہے۔ وہاں جاکر انھوں نے کچھ ڈاک کا کام کیا اور اس کے بعد واپس آگئے۔

راستہ میں ایک بہت وسیع عمارت تھی۔ اس کے باہر ایک پتھر پر لکھا ہوا تھا : Deborah Heart and Lung Centre معلوم ہوا کہ یہ دنیا میں دل اور پھیپھڑے کے علاج کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ کوئی مریض یہاں آجائے تو اس کو فورا داخل کرکے اس کا معیاری علاج کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ فیس دینے کے قابل ہے تو فیس دیتا ہے ورنہ اس کا پورا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ مولانا ذکی صاحب نے بتایا کہ ایک پاکستانی مسلمان یہاں آکر بیمار پڑگئے۔ ان کا پورا علاج یہاں مفت کیا گیا۔ حالانکہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page