O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹
اس کی فیس لاکھوں ڈالر بن رہی تھی۔ یہ ہسپتال زیادہ تر عوامی عطیات سے چلایا جاتا ہے۔ 12 ستمبر کی شام کو حسب پروگرام مسٹر بھرت جانی آئے (908-2831863 .Tel) ان کے ساتھ چل کر ڈیٹن (Dayton) ا۔ یہاں مسٹر کلیش شاہ (908-3294006 .Tel) کے مکان پرایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں تقریباً پچاس کی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو اکٹھا ہوئے۔ ان کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ۔ اختلاف انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسانی سماج سے اختلاف کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ پھر مل جل کر رہنے کا ماحول کیسے بنایا جائے ۔ اس کا ایک ہی راز ہے، وہ ہے اختلاف کو برداشت کرنا۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا۔ اختلاف کو قلبی نفرت نہ بننے دینا۔ تقریر کے بعد مختلف سوالات ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اسلام کی کچھ دعائیں بتائیے۔ میں نے چند دعائیں عربی میں سنائیں اور پھر ان کا ترجمہ کیا۔ ایک دعا یہ تھی : اللہم اجعل فی قلبی نوراً و فی بصری نوراً۔
کلیش صاحب کے مکان کے ایک بڑے کمرہ میں یہ میٹنگ ہوئی۔ لوگوں نے کئی باتیں بتائیں۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے بتایا کہ آج ہی میں نے ریڈیو پر ایک قصہ سنا جو کل پیش آیا ہے۔ ایک ایشیائی باپ اپنی بیمار لڑکی کو لے کر بالٹی مور جا رہا تھا۔ وہاں کے ایک ہسپتال میں اس کا اپوائنٹمنٹ تھا۔ راستہ میں اس کی کار کے انجن میں کچھ پرابلم پیدا ہو گیا۔ اس نے ایک میکینک کو دکھایا۔ کار میں ایک نیا پرزہ ڈالنے کی ضرورت تھی جو فوری طور پر دستیاب نہ تھا۔ میکینک نے مشورہ دیا کہ آپ رنٹ پر کار لے کر چلے جائیں اور گاڑی یہیں چھوڑ دیں۔ مگر فوری طور پر کرایہ کی کار نہ مل سکی۔
اب سوال تھا کہ کیا کیا جائے۔ کیونکہ لڑکی بیمار تھی اور فوراً روانہ نہ ہونے کی صورت میں وہ وقت پر ہسپتال نہیں پہنچ سکتا تھا جو وہاں سے چار سو میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ میکینک نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ میں آپ کو اور آپ کی لڑکی کو لے کر چلتا ہوں۔ چنانچہ میکینک اپنی گاڑی پر بٹھا کر ان کو لے گیا۔ اس آمد و رفت میں میکینک کے 14 گھنٹے خرچ ہوئے۔ یہ سب کچھ اس نے رضا کارانہ طور پر کیا۔ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues