O Allah, destroy America.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱
لکھنے اور بولنے میں مشغول تھے ۔ ہم نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بنانا شروع کیا کہ ان کے لیے ہر قسم کے مواقع موجود ہیں۔ آج خدا کے فضل سے ہندوستانی مسلمانوں میں نیا حوصلہ جاگ اٹھا ہے۔ اب وہ وہاں عزم وہمت کے ساتھ زندگی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اس کے بعد۲۰ منٹ تک ایمان، عبادت، اسلامی اخلاق، صبر واعراض اور دعوت کے موضوع پر کلام کیا۔ انٹرویو کے آخر میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لئے آپ کا پیغام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا پیغام یہ ہے کہ وہ وہاں قرآن کے الفاظ میں نفع بخش بن کر رہیں۔ وہ یہاں بوجھ (liability) نہ بنیں بلکہ وہ یہاں کے لیے سرمایہ (asset) بن جائیں ۔ وہ صرف لینے والے بن کر نہ رہیں بلکہ دینے والے بن کر رہنے کی کوشش کریں۔
ایک پاکستانی مسلمان نے افسوس کے انداز میں کہا کہ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ہم سب پاکستانی ہیں ، اور ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرنا چاہیے۔ مگر پاکستان کی نئی نسل اس سبق کو بھولتی جارہی ہے۔ اس کو نہ پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور نہ اسلام پر فخر !
میں نے کہا کہ آپ صرف نئی نسل کو کیوں کہہ رہے ہیں۔ آپ جیسے لاکھوں لوگ پاکستان کو چھوڑ کر امریکہ میں آکر آباد ہو گئے ہیں۔ کیا وہ خود بھی اس کا مصداق نہیں ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو سچ مچ پاکستان اور اسلام پر فخر ہوتا تو آپ ہرگز پاکستان اور اسلامی جمہوریہ کو چھوڑ کر یہاں نہ آتے۔ پھر میں نے کہا کہ فخر کی بات بذات خود ہی غلط ہے۔ اسلام ہمارا فخر نہیں ہے۔ اسلام ہماری ذمہ داری ہے۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی ہر سال یہاں پاکستانی میلہ مناتے ہیں۔ ۸؍اگست اگست ۱۹۹۴ کو نیویارک میں جو میلہ منایا گیا اس موقع پر ایک سوینیر چھاپا گیا تھا، اس کو میں نے دیکھا۔ اس میں ایک مضمون تھا قیام پاکستان : اسلامیان ہند کے طویل سفر کی منزل ۔ اس مضمون کا خاتمہ ان سطروں پر ہوا تھا :
" قائد اعظم محمد علی جناح (پاکستان کی مانگ پر) کوہ ہمالیہ کی مانند ڈٹے رہے، اور اپنا مطالبہ پورا کرایا ۔ اس موقع پر مسز وجے لکشمی پنڈت نے کہا کہ اگر مسلم لیگ میں ایک سو گاندھی، ایک سو ابو الکلام آزاد اور ایک سو پنڈت جواہر لال نہرو ہوتے اور کانگریس میں صرف محمد علی جناح ہوتے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues