Al-Risala · November 1998 · page 42

...what he called his pilgrimage to hell.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲

تو ملک کبھی تقسیم نہ ہوتا۔ ۳ جون ۱۹۴۷ء کو قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ اور یوں دنیا کے نقشہ پر ایک اسلامی مملکت ابھری۔ اور وہ سلطنت جس کا چراغ ۱۸۵۷ء میں گل ہوا تھا پھر اس کا دیا فروزاں ہوا اور مسلمان ایک اسلامی سلطنت کے وارث بنے۔ آج پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک قلعہ ہے۔ وہ دنیائے اسلام کا اہم ترین ملک ہے"۔

میں نے ایک پاکستانی مسلمان سے کہا کہ جب سو سال پہلے بھی زیادہ لمبی مدت کے بعد اسلام کا قلعہ اور اہم ترین اسلامی ملک وجود میں آگیا تو وہاں کے تمام بہترین افراد ملینوں کی تعداد میں پاکستان سے نکل کر یورپ اور امریکہ کیوں چلے آئے ۔ پھر تو آپ لوگوں کو خوشی اور اطمینان کے ساتھ وہاں رہنا چاہیے تھا۔ مگر اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ میں نے کہا پھر تو خود اپنے عمل سے آپ اس کی تردید کر رہے ہیں۔ آپ خود بتا رہے ہیں کہ یہ الفاظ محض ایک شاعری ہے، حقیقت واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

امریکی اخباروں میں ہندوستان کی خبریں بہت کم ہوتی ہیں۔ میرے طویل مدت قیام میں صرف ایک بار تفصیلی خبر تھی ۔ یہ امرناتھ یاترا کے بارہ میں تھی جس میں شدید طوفان کے نتیجہ میں تقریبا ڈھائی سو آدمی مرگئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ دی نیو یارک ٹائمز (۲۷ اگست ۱۹۹۹) میں صفحہ اول پر سری نگر کی ڈیٹ لائن کے ساتھ جان ایف برنس (John F. Burns) کی رپورٹ چھپی تھی۔ مذکورہ رپورٹر ہم ۳ سالہ پھل فروش جگدیش کیلا سے اسپتال میں ملا جو خود بھی اس حادثہ کا شکار ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ، کیلانے حادثہ کی ہولناک تفصیلات بتائیں۔ اس نے اس کو نرک کی یاترا قرار دیا :

...what he called his pilgrimage to hell.

جگدیش کیلا نے بتایا کہ جب طوفان آیا تو وہاں مکمل بے بسی کا عالم تھا۔ ہر شخص دہشت کی حالت میں تھا ۔ لوگ برف میں پھنسے ہوئے مدد کے لیے چلا رہے تھے ۔ ہر ایک کہہ رہا تھا کہ بھگوان کے لیے مجھے بچاؤ :

For God's sake, save us.

امرناتھ میں شیودیوتا کا مندر ہے۔ وہاں لوگ شیو کی پوجا کے لیے جاتے ہیں۔ مگر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page