Al-Risala · February 1998 · page 7

مغربی تہذیب اور اسلام

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۷

مغربی تہذیب اور اسلام

صحیح البخاری میں روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ان اللہ لیوید ھذا الدین برجل فاجر (اللہ اس دین کی مدد فاجر wicked شخص سے بھی کرے گا) یہ حدیث آرٹ آف تھنکنگ کے اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کی غلطی کو بتاتی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف دو کیٹیگری ــ صالح اور فاجر میں تقسیم نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کی ایک تیسری قسم بھی ہے، اور وہ مؤید (supporter) کی ہے۔ یعنی ایک انسان بظاہر صالح نہیں ہے، بظاہر وہ فاجر دکھائی دیتا ہے۔ تب بھی یقینی طور پر اس کے اندر ایک تیسری صفت ہو سکتی ہے، اور وہ یہ کہ وہ کسی اعتبار سے ہمارے لیے تائید (support) کا ذریعہ بن جائے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حدیبیہ اسی غیر ثنائی طرز فکر کی ایک عملی مثال ہے۔ ظاہری حالات کے اعتبار سے حدیبیہ کا فریق مقابل اسلام دوست نہ تھا، اس لیے لوگوں نے اپنے ثنائی ذہن کے مطابق یہ سمجھ لیا کہ وہ اسلام دشمن ہے۔ مگر پیغمبر اسلام اپنی ربانی فراست (وزڈم) کی بنا پر اس dichotomy کا شکار نہیں ہوئے۔ انھوں نے دریافت کر لیا کہ یہاں ایک تیسری صورت بھی موجود ہے۔ اور وہ خود فریق مخالف میں دعوت کے چھپے ہوئے امکانات ہیں۔ چنانچہ آپ نے فریق ثانی سے امن کا معاہدہ کر کے دعوت کے امکانات کو کھول دیا۔ اس کے بعد موافق ماحول میں دعوت کے امکانات استعمال ہونے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو سال میں اسلام کی تاریخ بدل گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب کا معاملہ بھی عین یہی ہے۔ آج دوبارہ مسلمان اس معاملہ میں اسی قسم کی dichotomy کا شکار ہورہے ہیں۔ چوں کہ بظاہر مغربی تہذیب انھیں اسلام دوست دکھائی نہیں دیتی اس لیے ثنائی طرز فکر کی بنا پر وہ سمجھ لیتے ہیں کہ مغربی تہذیب اسلام کی دشمن ہے۔ حتی کہ کچھ انتہا پسند (extremists) اس کو دجال بتا رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس dichotomy سے باہر آجائیں تو معلوم ہوگا کہ مغربی تہذیب اگر اسلام دوست نہیں تو وہ اسلام دشمن بھی نہیں۔ بلکہ حدیث کی زبان میں وہ اسلام کی معاون (supporter) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page