Al-Risala · November 1998 · page 43

For God's sake, save us.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳

عجیب بات ہے کہ یہ پجاری جب برف و باد کے طوفان میں پھنس گئے تو اس وقت ان میں سے کوئی شیو کو پکارنے والا نہ تھا۔ ہر ایک صرف بھگوان (خدا) کو پکار رہا تھا ـــــ فطرت صرف ایک خدا کو جانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگین حالات میں جب ذہن کی مصنوعی تہیں ہٹتی ہیں اور صرف فطرت باقی رہ جاتی ہے، اس وقت ہر آدمی ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ کیونکہ اصل فطرت کی سطح پر وہ ایک خدا کے سوا کسی اور کو جانتا ہی نہیں۔

ایک امریکی نوجوان نے ہائے (Hi) کہا۔ اس کے بعد ایک لفظ کہا جو مجھ کو ویںپ سنائی دیا۔ یہ دوسرا لفظ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ یہ دراصل (What is up) کا مخفف ہے۔ یعنی کیا حال ہے۔ کیسا چل رہا ہے۔ اس قسم کے مخففات اردو میں بہت کم ہوتے ہیں۔ مگر دوسری زبانوں میں وہ بہت زیادہ ہیں۔ اردو کی یہ بات مجھے پسند ہے کہ اس میں بول چال کی زبان بھی تقریباً وہی ہے جو کتاب کی زبان ہے۔ مگر دوسری زبانوں میں ایسا بہت کم ہے۔

عربی زبان میں یہ حال ہے کہ علماء اور شیوخ تک روزمرہ کی گفتگو میں عامی زبان بولتے ہیں جو کم از کم آواز کے اعتبار سے کتابی زبان سے بہت زیادہ مختلف ہوتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اکثر مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ایک صاحب جو نیو یارک میں عربوں کے ایک اسکول میں پڑھاتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ عربوں کے بچے عربی زبان سے نا بلد ہوتے جا رہے ہیں اب ان کی زبان عملاً انگریزی بن گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عرب والدين اپنے بچوں کو عربی سکھانے کے لیے ٹیؤٹر رکھتے ہیں، مگر بچے اس سے بھاگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیؤٹر ان کو کتابی زبان پڑھاتا ہے۔ یہ بچے اپنے ماں باپ کو عامی زبان بولتے ہوئے سنتے ہیں۔ اس لیے یہ کتابی زبان ان کو ایک نئی زبان معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس کی طرف راغب نہیں ہوتے۔

مگر اردو میں یہ مسئلہ نہیں۔ کیوں کہ اردو زبان بولنے والا عین وہی زبان بولتا ہے جو کتابوں میں لکھی جاتی ہے۔ اس لیے ایک آدمی جو اردوزبان سمجھتا ہو، اس کے لیے اردو سیکھنا عملاً صرف اس کی کتابت سیکھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اصل زبان کو تو وہ پہلے ہی سے جان رہا ہوتا ہے ۔ جب کہ عربی میں ایسا نہیں ہے۔

امریکہ کا مشہور انگریزی روز نامہ نیو یارک ٹائمس ۱۸۵۱ء میں جاری ہوا تھا۔ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page