Al-Risala · November 1998 · page 44

All the news that's fit to our industry.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

صفحہ اول پر یہ ماٹو لکھا ہوا رہتا ہے ۔ تمام خبریں جو چھاپنے کے لائق ہیں: All the news that's fit to print. اس کو پڑھ کر میں نے کہا کہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس کے بجائے یہ لکھا جائے کہ ۔ تمام خبریں جو ہماری پیپر انڈسٹری کے لیے موزوں ہیں:

All the news that's fit to our industry.

جناب ابراہیم صاحب کا دل کا آپریشن ہوا ہے۔ انھوں نے قمیص اٹھا کر دکھایا تو سینہ کے بیچ میں سیدھا لمبا نشان تھا۔ اصل یہ ہے کہ دل کے آپریشن میں سامنے کی ہڈیاں درمیان سے کاٹ دیتے ہیں تاکہ ڈاکٹر کا ہاتھ آدمی کے دل تک پہنچ سکے۔ آپریشن مکمل کرنے کے بعد ہڈیوں کے دونوں سرے ملا کر تار کا لگا دیتے ہیں۔ اس کے بعد فطری طور پر آسٹیو بلاسٹ (Osteoblast) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی ہڈیوں کے کٹے ہوئے سروں پر بون سل (bone cells) تیزی کے ساتھ بننے لگتے ہیں اور وہ بہت کم مدت میں ہڈیوں کو دوبارہ جوڑ دیتے ہیں۔ یہ سارا عمل اپنے آپ فطری نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔

ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے مفکرین نے مسلمانوں کے اندر یہ شعور جگایا کہ تم خدا کی طرف سے قیادت کے لیے مقرر کیے گئے ہو۔ تم ساری دنیا کے اوپر قائد ہو۔ یہ بات اسلام اور عقل دونوں کے اعتبار سے بے اصل تھی۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں من تواضع رفعه اللہ کا اصول ہے۔ یعنی بندہ تواضع کا ثبوت دیتا ہے۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے اس کے لیے قیادت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اسلام کا پورا نظام اسی اصول پر قائم ہے۔ سب سے پہلے اہل ایمان کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم خدا کے بندے ہو اور تم کو بندہ والی صفت کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے (الذین یمشون علی الارض ھونا) پھر عورتوں کو گھر کے اندر یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم کو مرد کی قوامیت کے تحت اپنی زندگی گزارنا ہے۔ اسی طرح مردوں کو ہر رات اور دن کے درمیان پانچ بار اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ ان کا صرف ایک امام ہو اور تمام لوگ مستقل طور پر اس کے مقتدی بن جائیں۔ اس طرح اسلام تمام مردوں اور عورتوں کے اندر اس احساس کی پرورش کرتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page