Al-Risala · November 1998 · page 45

All the news that's fit to our industry.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵

کہ تم کسی کے ماتحت ہو۔ اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے اندر تمام افراد احساس ماتحتی میں زندگی گزاررہے ہوں۔

کسی ملک میں ایک ملین آدمی ہوں تب بھی ان کا سردار ایک ہی ہوگا۔ ایک کم ایک ملین آدمی جب ماتحتی پر راضی ہوتے ہیں تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی متحدہ نظام قائم کیا جائے ۔ اس لیے کسی قوم میں امارت و قیادت کا شعور جگانا گھر یا قوم کے افراد کو الٹی خوراک دینا ہے ۔ عملاً تو صرف ایک کو چھوڑ کر پوری کی پوری قوم کو ماتحتی اختیار کرنا ہوتا ہے اور آپ تمام کے تمام لوگوں کے اندر سرداری کا احساس ابھار دیتے ہیں۔ ایسے لوگ صرف آپس میں لڑیں گے ، وہ کبھی کوئی متحد ہ نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

امریکہ میں مجھے ایک مسلمان انجینئر کے یہاں لے جایا گیا۔ ہم پہنچے تو بنگلہ نما ایک شاندار مکان کے سامنے دو بڑی آٹومیٹک گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں ۔ معلوم ہوا کہ یہ سب بینک سے سودی قرض لے کر حاصل کیا گیا ہے۔ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں ۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس میں 99 فی صد سے زیادہ لوگ مبتلا ہیں۔ اس فتنے کے پیچھے جو کشش ہے وہ اتنی طاقت ور ہے کہ اس سے غیر متاثر رہنا صرف ولی ہی کا کام ہو سکتا ہے۔

پہلے ایسا ہوتا تھا کہ آدمی زندگی بھر محنت کرکے کماتا تھا اور پسینہ جمع کرتا رہتا تھا۔ پھر آخر عمر میں اس کے لیے ممکن ہوتا تھا کہ وہ جمع شدہ رقم کو استعمال کرکے اپنے لیے ایک پسندیدہ گھر بنا سکے۔ مگر یہ پسندیدہ مکان عملاً اس وقت ملتا تھا جب کہ اس کی زندگی کا آخر وقت آجاتاتھا۔ اس کے مقابلہ میں جدید نظام یہ موقع دیتا ہے کہ زندگی میں داخل ہوتے ہی اول دن تم اپنے لیے ایک پررونق مکان حاصل کر لو اور اس کے اندر پوری عمر شاندار زندگی گزارو۔ اس کی صورت صرف یہ ہے کہ تم بینک سے سودی قرض لے لو اور پھر بعد کو اپنی کمائی سے قسط وار صورت میں اس کو ادا کرتے رہو۔

فانی بدایونی کے زمانہ میں دنیا کی کشش کے اسباب آج کے مقابلہ میں بہت کم تھے۔ اس کے باوجود انھیں کہنا پڑا :

فریب جلوہ اور کتنا مکمل اے معاذاللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھایا پا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page