Al-Risala · November 1998 · page 47

All the news that's fit to our industry.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷

زندہ رہنے کے لئے ہمیں خوراک کی ضرورت ہے۔ اور فطرت نے زندہ اشیاء ہی کو ہماری خوراک بنایا ہے۔ غیر زندہ اشیاء (مردہ حیوان یا پتھر وغیرہ) کو ہم اپنی خوراک نہیں بنا سکتے ایسی حالت میں اصل سوال قربانی کرنے یا نہ کرنے کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آدمی زندہ رہے یا خود کشی کر کے اپنے آپ کو ختم کر لے۔ کسی کو یہ حق تو ہے کہ وہ کھانا پانی چھوڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔ مگر کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ قربانی نہ کرو۔ کیوں کہ قربانی تو ہر آدمی عملاً کر رہا ہے۔ ہر آدمی ہر لمحہ ہزاروں جانوں کو مار کر انہیں اپنی خوراک بناتا ہے اس کے بعد ہی وہ اس دنیا میں زندہ حالت میں باقی رہتا ہے۔ قربانی اس دنیا میں زندگی کا ایک عام قانون ہے، وہ مخصوص طور پر جانور کے ذبیحہ سے متعلق مسئلہ نہیں۔

سوال

کہا جاتا ہے کہ چیزوں سے نہیں ہوتا، خدا سے ہوتا ہے۔ خدا سے ہونے کا یقین اور اسباب سے کچھ نہ ہونے کا یقین یہ کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے، اس کے بارے میں بتائیں۔ (شکیل احمد، چندر پور)

جواب

اس مسئلہ کا جواب حدیث (الترمذی، کتاب القیامہ) میں موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ایک مسلمان نے کہا کہ اے خدا کے رسول میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں اور پھر توکل کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹ کو باندھو پھر توکل کرو ( یا رسول الله اعقلها واتوكل او اطلقها واتوكل قال اعقلها وتوكل)

اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز برائے امتحان ہے یہی معاملہ تو کل کا ہے۔ اس دنیا کا نظام بظاہر اسباب و علل پر قائم ہے۔ یہاں کے حالات کا تقاضا ہے کہ آدمی پوری طرح اسباب

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page