All the news that's fit to our industry.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸
کی رعایت کرتے ہوئے اپنا عمل کرے۔ اس کے باوجود اس کو خدا ہی پر بھروسہ کرنا ہے۔ پھر بھی اس کی کیفیت یہ ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے حکم سے ہو رہا ہے۔ مومن وہ ہے، جو ظاہری اعتبار سے ہر قسم کے اسباب فراہم کرے، مگر داخلی طور پر اس کا یقین یہ ہو کہ جو کچھ ہو گا خدا کے حکم سے ہوگا۔ خدا کے حکم کے بغیر یہاں نہ کسی کو کچھ ملنے والا ہے اور نہ کسی سے کچھ چھینا جانے والا۔
سوال
کہا جاتا ہے کہ زکاۃ اور صدقات میں برکت ہے اور سود میں برکت نہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ براہ کرم تشریح فرمائیں۔ (مشتاق احمد، دہلی)
جواب
یہاں برکت کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں۔ بلکہ وہ معلوم اقتصادی معنی میں ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ زکاۃ یا صدقہ دوسروں کو دینے کا عمل ہے۔ اس کے برعکس سود دوسروں سے لینے کا عمل۔ کسی سماج میں جب ایسا ہو کہ لوگ اپنی کمائی کا ایک حصہ دوسروں کو دینے لگیں تو وہاں عمومی خوش حالی پیدا ہوگی۔ کمایا ہوا مال صرف کمانے والے کے پاس نہیں رہے گا بلکہ توسیع پا کر وہ دوسروں تک بھی پہنچتارہے گا۔ اس کے مقابلہ میں سودی نظام میں یہ ہوگا کہ کچھ لوگ قرضوں کے ذریعہ دوسروں کے مال کا ایک حصہ اپنے لئے حاصل کرتے رہیں گے۔ سماج کی دولت پورے سماج میں گردش نہیں کرے گی بلکہ وہ کچھ افراد کے پاس سمٹ کر رہ جائے گی۔ یہی مطلب ہے بے برکتی کا۔ زکاۃ اور صدقہ کا طریقہ خوش حالی کو عمومی بناتا ہے۔ اور سود کا طریقہ خوش حالی کو کچھ لوگوں تک محدود کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues